کیا بلاول باپ سے دور اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہو رہا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اگر بلاول بھٹو نے سیاست میں اپنے نانا اور ماں کی طرح کوئی مقام بنانا ہے تو انہیں سیاسی میدان میں ایک “منمناتی بھیڑ” یا “چوری کھانے والا” میاں مٹھو بننے کی بجائے بھٹو خاندان کا “عقابی شِکرا” بننا ہو گا۔
اپنے تازہ ترین کالم “تم کہاں کھڑے ہو” میں سہیل وڑائچ بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یاد رکھو جس ملک کی سیاست خوشامد پر چلنے لگے اور سب ایک صفحے پر چلے جائیں، جس ریاست سے اختلافِ رائے غائب ہو جائے اور اظہارِ رائے کی آزادی چھن جائے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں بلکہ ایک ناکام ریاست کہلاتی ہے۔
بلاول کا نام لیے بغیر اسے مخاطب کرتے ہوئے سہیل وڑائچ لکھتے ہیں : تم کہاں کھڑے ہو؟ تمہاری ماں اور نانا کے دل تو جمہور کے ساتھ دھڑکتے تھے، تمہارا نانا تو کہتا تھا کہ میں ہر اُس گھر میں رہتا ہوں جس گھر کی چھت ٹپکتی ہے۔ تمہاری ماں تو پیاز ٹماٹر مہنگے ہونے پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلا لیتی تھی، غریب، پسینہ زدہ اور شکستہ حال بوڑھیوں سے گلے مل کر دل ٹھنڈا کرتی تھی مگر تم تو کہیں اور کھڑے نظر آتے ہو۔ مصلحت اور مصالحت سے تم قابل قبول تو ہو جاؤ گے مگر مقبول نہیں ہو سکو گے۔
 اقتدار تو ق لیگ کو بھی ملا مگر وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ نہ پا سکی، کبھی پاپولر جماعت نہ بن سکی۔ تم بھی اقتدار پا لو گے مگر بیساکھیوں سے ملنے والا اقتدار نہ دیرپا ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔ مانا کہ تمہارا نانا رات کے اندھیرے میں پھانسی چڑھایا گیا۔ تسلیم، کہ تمہاری زیرک ماں کو دن دہاڑے سرِ بازار قتل کیا گیا۔ قبول، کہ تمہارے دو ماموں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں بھری جوانی میں قتل کیے گے گئے۔ سچ، کہ تمہاری زندگی کو بھی ہروقت خطرہ ہے۔ درست، کہ اقتدار، مقتدر کے بغیر نہیں ملتا مگر مصلحت اور مصالحت سے ملنے والا اقتدار کٹھ پتلی جیسا ہوتا ہے، چمچوں کو خود مختار کون بناتا ہے؟
یاد رکھو کہ شِکرے بھٹو اور عقابی بینظیر کو اقتدار دینا فوج کی مجبوری بن گیا تھا، 71ء کا بحران نہ ہوتا تو بھٹو کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کون بناتا؟ خود فوج اسے کیسے مانتی؟ 1988ء میں بینظیر کے علاوہ چوائس کیا تھی؟ نمبروں کا فرق اتنا تھا کہ اقتدار دینا پڑا۔
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں: شکروں کا اقتدار، چاہے تھوڑا ہو عزت اور خود مختاری والا ہوتا ہے۔ ہر شکرے کو اقتدار ہاتھ باندھ کر دیا جاتا ہے اور طوطے ہاتھ باندھ کر معافیاں اور منتیں کرکے اقتدار لیتے ہیں۔ تم خود راستہ چن لو، ایک راستہ تاریخ میں کالے حروف سے رقم کیا جاتا ہے اور دوسرا راستہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ لیڈر اگر اپنے مؤقف پر ڈٹ نہ سکیں، حرصِ اقتدار یا انتقام کے خوف سے آواز بلند نہ کر سکیں تو انہیں علم ہونا چاہئے کہ ایسی خاموشی موت ہے۔ اگر کوئی لیڈر حالات کے جبر میں مصلحت کی چادر اوڑھتا ہے تو وہ سیاسی خودکشی کی طرف گامزن ہے۔ یاد رکھو تیسری دنیا میں سیاست عشق ہے، جنون ہے، اپنی جان کا سودا ہے۔ اگر مقصد اقتدار لینا ہے یا سکون کی زندگی گزارنا، تو پھر بھٹو اور بینظیر کی سیاست کو چھوڑ کر اقتدار پرستوں کی صف میں کھڑے ہو جاؤ۔
سہیل وڑائچ اپنا کالم ختم کرتے ہوئے بلاول کو مخاطب کرتے ہوئے آصف زرداری کے بارے میں لکھتے ہیں:
سنا ہے کہ سوتیلا سوکھ کر کانٹا ہو چکا ہے۔ اسے اٹھنے اور بیٹھنے کی لئے بھی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن وہ پھر بھی ہمیشہ کے لیے بیرونِ ملک چلے جانے کی آفر قبول کرنے پر نہیں مان رہا۔ تاریخ کے صفحات میں سب لکھا ہے کہ کیسے جہانگیر نے اپنے باپ مہابلی اکبر اعظم کو بے دست و پا کرکے وراثت چھین لی تھی۔ توقع ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے۔ اگلے چند دن کے معاملات میں تمہارے کردار کا پتہ لگ جائے گا۔ چند دن کی بات ہے’ تمہارے جمہوری لبادے پر داغ بھی لگ سکتا ہے، لہذا دھیان سے چلنا وگرنہ سب کو پتہ لگ جائے گا کہ تم کہاں کھڑے ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close