حکومت نے جان بوجھ کر آرمی چیف کی توسیع کے معاملے کو خراب کیا

سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے الزام لگایا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت نے جان بوجھ کر معاملات خراب کیے اور ان کے پاس اس حوالے سے مصدقہ اطلاعات موجود ہیں۔
جیو ٹی وی کے سلیم صافی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جتنی حمایت موجودہ حکمرانوں کو فوج کے ادارے کی جانب سے ملی ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ عمران خان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین دوریاں بڑھ چکی ہیں اور حال ہی میں آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ان بڑھتے ہوئے فاصلوں کا غماز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو ڈرامہ رچایا گیا اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سابق آرمی چیف نے کہا کہ جب عمران خان نے 19 اگست 2019 کو آرمی چیف کی توسیع کی حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا تھا تو پھر بعد کے تین مہینوں میں حکومت کیا کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ ایک پوری حکومت مل کر تین روز تک آرمی چیف کی توسیع کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرسکے۔ ایسا بدنیتی کے بغیر نہیں ہوسکتا اسی لیے لئے وزیراعظم نے اپنی قانونی ٹیم کے کسی بھی رکن کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی ہے بلکہ وہ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر توسیع کے معاملے پر تاخیری حربے استعمال کئے اور جب معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو وہاں بھی تین روز جوکروں والی حرکتیں کی گئیں جس کی وجہ سے چیف جسٹس یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ حکومت نے تو آرمی چیف کو شٹل کاک بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا میرا دعویٰ ہے کہ حکومت نے آرمی چیف کو خراب کرنے کے لئے عدالت میں ڈرامے کیے جس کی بنیادی وجہ حکومت اور فوج کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں۔ جنرل اسلم بیگ نے کہا کہ وہ یہ صورتحال ماضی میں بطور آرمی چیف بھگت چکے ہیں۔ دراصل ہر حکمران کے قریب ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اسے غلط مشورے دے کر فوج سے معاملات خراب کرتے ہیں۔ ایسا میرے ساتھ پیپلزپارٹی کے دور میں ہوا اور اب وہی کھیل جنرل باجوہ کے ساتھ کھیلا گیا ہے۔ یاد رہے کی جیو ٹی وی پر مرزا اسلم بیگ کا انٹرویو چلتے چلتے اچانک بند کر دیا گیا جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے آنے والا دباؤ تھا جس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ اس انٹرویو کا پاکستانی میڈیا نے بلیک آؤٹ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close