وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

تحریر: امتیاز عالم
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پہ آرٹیکل 184(3)کے تحت کیا نوٹس لیا کہ اللہ کی پناہ، سوشل میڈیا پہ طوفان مچ گیا ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رُکنی بنچ کو بقول جسٹس کھوسہ سی آئی اے، انڈیا کا ایجنٹ اور جانے کونسی ففتھ جنریشن وار فیئر اور عجیب الخلقت جنگ (Hybrid Warefare) کا ترنوالہ بننے کے طعنے دیئے گئے جس پر عزت مآب جج صاحب کو استفسار کرنا پڑا کہ آخر یہ بلا ہے کیا؟
شاید اُنہیں معلوم پڑا ہوگا کہ ہر اختلافی رائے، ناقدانہ رویے، شہری و انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والوں اور آئین و سویلین حکمرانی کے سبھی داعیوں کو پانچویں نسل کی جنگ اور ہائبرڈ وار فیئر میں دشمن کے ففتھ کالم کے طور پر دشنام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
خیر سے عدالتِ عظمیٰ نے اس گتھی کو سلجھانے میں عدالتی ضبط (Judicial Restraint)سے کام لیا ہے جسے حکومت کے اعلیٰ مشیروں کی باربار کی نالائقیوں نے اُلجھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، چوتھی بار بھی جو سمریاں بنا کر پیش کی گئیں، اُن سے معاملہ سلجھنے کی بجائے گمبھیر تر ہوتا چلا گیا۔
بجائے اس کے کہ وزیراعظم اپنے قانونی و سیاسی مشیروں کی خبر لیتے، اُنہوں نے اُلٹا اسے دشمن اور اندرونی مافیاز کی ’’اداروں کے مابین جنگ کروانے کی سازش‘‘ قرار دے کر اپنی ہی حکومت کی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کی کھسیانی کوشش کی ہے۔ بجائے اس کے کہ عدالتِ عظمیٰ قانون سازوں کی غفلتوں کا بوجھ اُٹھاتی اور وہ بھی بھاری بھر کم سلامتی کی ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھانے والوں کے حوالے سے، عافیت اسی میں دکھائی پڑی کہ گیند واپس حکومت اور پارلیمنٹ کے کورٹ میں پھینک دی جائے۔
جب عدالتِ عظمیٰ کو اگر مدتِ ملازمت میں توسیع کا کوئی قانونی جواز اٹارنی جنرل پیش کرنے میں بُری طرح ناکام ہو گئے تو چھ ماہ کیلئے توسیع کی عبوری رعایت دینےکیلئے بھی نظریۂ ضرورت کہہ لیں یا پھر عدالتی ضبط سے کام لیتے ہوئے حکومت ہی کو اس قضیہ کو چھ ماہ میں حل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔
جس قانون کی چھڑی کے قانون کی سختی سے عملدرآمد کی وجہ سے ٹوٹ جانے کا خدشہ اٹارنی جنرل نے ظاہر کیا تھا، اُس کے پیشِ نظر قانون کی چھڑی کو ہی لچک دکھانا پڑی۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی سلامتی کے حوالے سے بڑی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر عدالتی درگزری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ کی صوابدید پر یہ معاملہ چھوڑتے ہوئے حکم صادر کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کے ذریعے (Through an Act of Parliament)چیف آف آرمی اسٹاف (و دیگر سروسز چیفس) کی ملازمت کی شرائط کو صاف طور پر واضح کرے اور اس ضمن میں آرٹیکل 243کے دائرئہ کار کی وضاحت کی جائے۔
ایسا کرنےکیلئے خبریں ہیں کہ حکومت کوئی آرڈیننس بھی لا سکتی ہے۔ یہ بہت بُرا اور عارضی انتظام ہوگا جسے جب چاہے کوئی حکومت آرڈیننس کے ذریعے بدل سکے گی اور یوں آرمی چیف کا عہدہ بقول چیف جسٹس ’’شٹل کاک‘‘ بن جائے گا۔
آرڈیننس کے ذریعے ایک دن مدت بڑھائی جا سکے گی، اگلے روز واپس لی جا سکے گی۔ ایسا کھیل ملکی سلامتی کے ذمہ دار عہدیداروں سے کرنا کہاں کی ملک دوستی ہے؟ اِسی طرح آرٹیکل 243 کی تشریح ایک سادہ قانون سے کرنے کے معاملے کو عدالت میں بھی تبدیل کیا جا سکے گا کہ یہ آئین کی منشا کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔
یا پھر یہ سادہ اکثریت یا غیرمرئی دبائو سے بدلا بھی جا سکے گا۔ بہتر ہے کہ اس معاملے کو آئینی ترمیم و اضافے سے قطعی طور پر طے کر دیا جائے تاکہ پاک فوج کا سپہ سالار قانونی موشگافیوں اور سیاسی دائو پیچ سے ماورا ہو جائے۔
ججز کیس کے مشہور فیصلے سے پہلے حکومتیں عدالتِ عظمیٰ اور عالیہ میں ججوں اور چیف جسٹسز کی تعیناتی سے کھلواڑ کرتی رہیں۔ بعد ازاں ججز کیس کے فیصلے اور آئینی ترامیم کے بعد یہ پرانی تباہ کُن روایت یا بُری کنونشن ختم ہو چکی ہے۔
اب چیف جسٹسز کی تعیناتی میں ابہام رہا نہ سیاسی رسہ کشی۔ مسلح افواج کے معاملے میں بھی ایئرچیف اور نیول چیف کی تعیناتی کے وقت کم اُلجھن دیکھنے کو ملتی ہے۔
اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی اب ختم ہو گیا ہے۔ فوج کے ادارے کی پیشہ ورانہ مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ افواج ایئرفورس اور نیوی کی طرح آرمی چیف کی بھی مدت و شرائطِ ملازمت کو قطعی طور پر آئین میں طے کر دیا جائے تاکہ مسلح افواج کے اعلیٰ عہدے کسی بھی متنازع بحث سے ماورا ہو جائیں جیسا کہ دُنیا کے بیشتر ممالک میں ہوتا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے عہدےکیلئے جو یہ خیال تھا کہ یہ باری باری ہوائی، بحری اور بری افواج کے افسروں میں روٹیٹ کیا جائے، اُس پر بھی عمل نہیں ہو رہا ہے۔
بدقسمتی سے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا عہدہ دفتری سا ہو کر رہ گیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ مسلح افواج میں بہتر ربط اور مجموعی قیادت کیلئے اس عہدہ کو بھی ضروری شرفِ اختیار بخشا جائے۔
آرمی چیف کے عہدہ کے دائرئہ عمل کے تعین کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ سلامتی کے اداروں اور خاص طور پر انٹیلی جنس سروسز کے دائرئہ عمل اور اختیارکار کو قانونی طور پر طے کر دیا جائے اور پارلیمنٹ کی کسی موثر انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے انہیں جوابدہ بھی کر دیا جائے۔
پاکستان کی سلامتی، آئین و قانون کی عملداری اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ تمام آئینی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں بشمول ججوں، سروسز چیفس، انٹیلی جنس چیفس کی تقرریاں بھی پارلیمنٹ کی دو طرفہ کمیٹیوں میں شنوائی کے ساتھ متفقہ طور پر کی جائیں تاکہ اداروں اور اُن کی حرمت پہ قومی اتفاق کیا جا سکے۔ بھلا اچھے کاموں میں دیر کیسی!

بشکریہ: روزنامہ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close