بزدار حکومت چلانے کے لیے شہباز شریف کی ٹیم میدان میں

بزدار حکومت کی ناکارہ گاڑی کا انجن چالو کرنے کے لئے اب سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کی پرانی ٹیم کو کلیدی عہدوں پر فائز کردیا گیا ہے تاکہ گورننس کو بہتر بنایا جاسکے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا عثمان بزدار میں اتنی انتظامی صلاحیت اور قابلیت ہے کہ وہ شہباز شریف کی طرح کامیابی کے ساتھ بیوروکریٹس کی اس ٹیم کو لیڈ کرسکے۔
یاد رہے کہ پنجاب میں براہِ راست وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بیوروکریسی میں کی جانے والی زبردست اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں شہباز شریف کی باصلاحیت ٹیم واپس آگئی ہے لیکن اس عمل کے نتیجے میں پی ٹی آئی کا سابق وزیراعلیٰ کیخلاف کرپشن کا اپنا بیانیہ زنگ آلود ہوگیا ہے۔ نئے سسٹم میں تمام اہم عہدے شہباز شریف کے من پسند افسران کو دیے گئے ہیں جو شہباز شریف کی گزشتہ 10؍ سالہ حکومت میں ترقی اور حکمرانی سے متعلق کاموں کے ذمہ دار تھے۔ ان میں سے اکثر افسران کے پاس اہم منصوبوں کی ذمہ داریاں تھیں جو مسلم لیگ نون کی پہچان سمجھے جاتے ہیں جیسا کہ اورنج ٹرین، ملتان میٹرو، انڈر پاسز اور لاہور کے بڑے پروجیکٹس، نندی پور پاور پروجیکٹ۔
درجن بھر افسران، جنہیں اب واپس عثمان بزدار حکومت میں واپس لایا گیا ہے، براہِ راست شہباز شریف کے ساتھ چیف منسٹرز سیکریٹریٹ میں کام کرتے تھے۔ تاہم عوامی حلقے اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ عثمان بزدار کیا شہباز شریف کی طرح کامیابی سے ان باصلاحیت افسران سے کام لے پائیں گے یا نہیں۔
نئی بیوروکریٹک ٹیم جسے پنجاب میں پی ٹی آئی کی تمام بیماریوں کا سبب قرار دیا جا رہا تھا، کی قیادت میجر (ر) اعظم سلیمان کر رہے ہیں جو صوبے کے نئے چیف سیکریٹری ہیں اور وہ شہباز شریف کے دور میں پانچ سال تک انتہائی پرتعیش عہدے سی اینڈ ڈبلیو کے سیکریٹری رہ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ میجر اعظم سلیمان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کورس میٹ بھی ہیں۔
اعظم سلیمان نے پنجاب اور لاہور میں بڑے پروجیکٹس پر عمل کے معاملے میں بہت زبردست کارکردگی دکھائی۔ اعظم سلیمان کسی بھی طرح کی بے وقوفی کو برداشت نہیں کرتے تھے اور شہباز شریف کے من پسند افسر تھے۔ ذرائع کے مطابق، شہباز شریف میجر اعظم کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ گریڈ 22؍ میں ترقی ہونے کے باوجود انہیں بطور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب میں پانچ سال کیلئے مقرر رکھا گیا جو کسی بیوروکریٹ کیلئے سب سے طویل عرصہ ہے۔ وہ رانا ثنا اللہ کے بھی قریب خیال کیے جاتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی ان پر ماڈل ٹائون سانحے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتی رہی تھی۔
نبیل اعوان، عبداللّٰہ سنبل، ندیم محبوب، جاوید قاضی، ساجد داہل وغیرہ جیسے تمام بہترین ڈی ایم جی / پی اے ایس افسران شہباز شریف کے ماتحت بطور سیکریٹری ٹو چیف منسٹر برائے ڈویلپمنٹ، عملدرآمد اور رابطہ کاری کام کر چکے ہیں۔ سیکریٹریٹ میں کچھ افسران پنجاب میں گورننس اور ترقی کے امور کے ذمہ دار تھے۔ نئی اکھاڑ پچھاڑ میں ان سب کو اہم عہدے دیے گئے ہیں۔
نبیل اعوان کو سیکریٹری ہیلتھ اور ساتھ ہی لائیو اسٹاک کا سیکریٹری لگایا گیا ہے۔ اسد سنبل فنانس کے سیکریٹری ہیں، ندیم محبوب کو سیکریٹری ہائوسنگ بنایا گیا ہے تاکہ وہ وزیراعظم کے ہائوسنگ ویژن پر عملدرآمد کر سکیں، جاوید قاضی سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ مقرر ہوئے ہیں اور یہ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے انتہائی اہم شعبہ ہے۔ ساجد داہل کو سیکریٹری ہائر ایجوکیشن مقرر کیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close