بیوروکریسی کو نیب کے خوف سے آزاد کرانے کا فیصلہ

نیب کے خوف میں مبتلا ملک کے سینئر ترین بیوروکریٹس کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے حالیہ ملاقات رنگ لائی ہے اور حکومت نے بیوروکریسی کے حوالے سے نیب کے سخت شکنجے کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آرمی چیف کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں وفاقی سیکرٹریز کے ایک وفد نے نیب کو گڈ گورننس اور سروس ڈیلوری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ نیب اقدامات سے بیوروکریسی تحریک انصاف حکومت کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے قابل نہیں رہے گی کیونکہ آفیسرز کو بغیر ٹھوس ثبوت کے بلایا اور ڈرایا جاتا ہے جس بنا پر وہ خوفزدہ اور سہمے ہوئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ اب حکومت سے اجازت کے بعد وفاقی سیکریٹریز نے نیب قانون میں ترمیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے جو منظوری کیلئے وزیر اعظم کو پیش کیا جا ئے گا۔ مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ کرپشن کیسز کا اطلاق 50 کروڑ روپے سے زیادہ پر کیا جائے۔ پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی میں صدر مملکت اورچیئرمین نیب کا کردار ختم کیا جائے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی کا اختیار وفاقی حکومت کو دیا جائے۔ پراسیکیوٹر جنرل کا عارضی چارج نیب آفیسر کو دینے کا چیئرمین نیب کا اختیار ختم کیا جائے۔ پراسیکویٹر جنرل کا عارضی چارج دینے کا اختیار وفاقی حکومت کو دیا جائے۔ سرکاری آفیسر کو طلب کرنے کا نیب کا اختیار ختم کیا جائے۔بیوروکریٹس کے خلاف انکوائری اور گرفتاری کی منظوری 6رکنی اسکروٹنی کمیٹی دے ‘نیب کی تحویل میں افسران کو 90 روز کی بجائے 14 روز کیلئے رکھا جائے۔ ہائیکورٹ میں حتمی فیصلوں کے خلاف اپیلوں کو 30 کی بجائے 10 روز میں نمٹایا جائے ۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ چیئرمین نیب شکایات کے ازالے کا میکنزم تیار کرے۔ چیئرمین نیب کو شکایات کے حوالے سےسہ ماہی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرنے کا پابند بنایا جا ئے۔ نیب کا کوئی بھی آفیسر ریفرنس فائل ہونے تک تحقیقات سے متعلق بیان نہیں دے گا۔ نیب بیوروکریٹس کا احتساب کیسے کریگا اس کیلئے بھی طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے ۔وفاقی سیکریٹریز نے 6رکنی اسکروٹنی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دید ی ہے ۔ اس تجویز کے تحت نیب اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری کے بغیر بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی نہیں کرسکے گا۔اسکروٹنی کمیٹی کا سربراہ چیئر مین نیب کو مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سیکریٹری کابینہ ڈویژن سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ،چیئر مین ایف بی آر۔ چیئرمین ایس ای سی پی ،وزارت قانون کا ایک اعلیٰ آفیسر ،متعلقہ ڈویژن کا سیکرٹری اور متعلقہ صوبے کا چیف سیکریٹری کمیٹی ارکان میں شامل کئے جائیں گے۔ اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری کے بغیر کسی بیوروکریٹ کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔کمیٹی کی منظوری کے بغیر بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات یا انکوائری بھی نہیں ہوسکے گی ۔بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کیلئے اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری ضروری ہوگی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سیکر ٹریز کمیٹی کا اجلاس دس اکتوبر 2019 کو ہوا تھا جس میں نیب کو گڈ گورننس اور سروس ڈیلوری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ نیب اقدامات سے تحریک انصاف حکومت ایجنڈے پر عمل درآمد کے قابل نہیں رہے گی۔آفیسرز کو بغیر ٹھوس ثبوت کے بلایا اور ڈرایا جاتا ہے۔۔بیورو کریسی نے نیک نیتی کے ساتھ کئے جانے والے فیصلوں کا تحفظ مانگتے ہوئے چھوٹی باتوں پر بیورو کریسی کو سمن اور گرفتاریاں ناقابل قبول قرار دیا تھا۔بیورو کریٹس کے سب سے بڑے فورم سیکریٹریز کمیٹی کے دس اکتوبر کو ہونے والے اجلاس نے بیورو کریسی کی جانب سے نیب کی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔سیکریٹریز کمیٹی کا کہنا تھا کہ قابل احترام سول سرونٹس کی تضحیک گڈ گورننس کے اصولوں کے منافی اورناقابل قبول ہیں۔ کمیٹی کی رائے میں موجودہ حکومت قانون کی عمل داری اورمعاشی انصاف کے ایجنڈے کے ساتھ اقتدار میں آئی ،موجودہ حکومت ایسی فلاحی ریاست چاہتی ہے جو تمام شہریوں کیلئے میرٹ اورشفافیت کی ضمامن ہو تاہم معاشی ٹرانسفار میشن کیلئے ضروری ہے کہ بیورو کریسی جدید ،فعال اورنیک نیتی کے ساتھ خطرات لینے کیلئے رضامند ہو، بیوروکریسی کیلئے فیصلہ سازی کرنا منصفانہ اورساز گار ماحول کی فراہمی سے ہی ممکن ہے ،نیب کے اقدامات کے منفی اثرات بلا آخر عوام پر ہی پڑیں گے ۔بیورو کریسی کے فیصلوں کو مجرمانہ انداز میں پیش کرنے سے فیصلہ سازی کا عمل متاثر ہوگا ،ایسے واقعات سے حکومتی عمل اور منصوبے سست روی کا شکار ہوجائیں گے۔نیب آفیسر کا اتھارٹی کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے سمن اوروارنٹ جاری کرنا مکمل طور پر ناقابل بردداشت ہے۔احتساب کا عمل منصفانہ اور شفاف ہونا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close