قطر سے ایل این جی کی درآمد میں کمی پرغور

قطر سے طویل المدتی معاہدے کے تحت ایل این جی کی درآمدی قیمت کم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ قطری حکام نے کہا تھا کہ دیگر ممالک کے ساتھ اسی طرح کے 26 معاہدے ہیں اور ایل این جی کی قیمت میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم قطری حکام پاکستان کے خسارے میں کمی کے لیے کسی اور منصوبے پر غور کرنے کےلیے تیار ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے قطر سے مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق 28 نومبر کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پنجاب میں حویلی بہادر شاہ اور بلوکی میں نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ کمپنی 2650 میگاواٹ کے 2 ایل جی این پلانٹس کی نجکاری کے باعث خطرات میں کمی کے قطر سے حالیہ مذاکرات کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے ای سی سی کو آگاہ کیا اس سے قبل قطر نے اعلیٰ سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کی کوشش کو قبول نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں برس کے آغاز میں دوحہ میں وزیراعظم کے دوران اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے قطر سے 15 سالہ معاہدے کے تحت پاکستان کو سپلائی کی جانے والی ایل این جی کی قیمت میں کمی کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ قطری حکام نے کہا تھا کہ دیگر ممالک کے ساتھ اسی طرح کے 26 معاہدے ہیں اور ایل این جی کی قیمت میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تاہم قطری حکام پاکستان کے خسارے میں کمی کے لیے کسی اور منصوبے پر غور کرنے کے لیے تیار تھے لہٰذا 2 آپشنز پر غور کیا گیا تھا جس میں پاکستانی بینکوں میں قطر کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور کم نرخ پر ایل این جی کی اضافی مقدار کی سپلائی شامل ہیں۔ ان میں ایل این جی کی اضافی سپلائی کے آپشن کو اس وقت کے وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے مسترد کیا تھا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پیٹرولیم ڈویژن کو قطر کے ساتھ ایل این جی سپلائز کے معاہدے میں تبدیلی کے نئے آپشنز اٹھانے کی ہدایت اور پاکستان قیمتوں کے فرق کو منظور کرنے کےلیے تیار ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close