کیا کپتان طلبہ یونینز کو بحال کرنے کا کریڈٹ لیں گے؟

کیا وزیر اعظم عمران خان 36 برس قبل 1984 میں جنرل ضیاء الحق کی مارشل لا حکومت کی جانب سے طلباء یونین پر عائد کردہ پابندی اٹھاکر تعلیمی اداروں میں جمہوری آزادیاں بحال کرنے کا کریڈٹ لیں گے؟ اس حوالے سے امید کی کرن تب پیدا ہوئی جب وزیراعظم عمران خان نے حالیہ طلباء یکجہتی مارچ کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ ان کی حکومت طلبہ یونینز کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق مرتب کرے گی کیونکہ تعلیمی ادارے مستقبل کے سیاسی لیڈرز کو پروان چڑھاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 فروری 2020ء کو پاکستان میں طلبہ یونین پر عائد پابندی کو 36؍ سال مکمل ہو جائیں گے۔ یہ پابندی 9 ؍ فروری 1984ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء ضابطہ 60جاری کرکے عائد کی تھی اور طلبہ کو جمہوری عمل سے باہر کردیا تھا مگر ملک میں جمہوریت کی بحالی کے باوجود پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف سمیت کوئی بھی جماعت طلبہ یونین کے مرکز اور صوبوں میں الیکشن نہیں کرا سکی۔ ایک کے بعد ایک جمہوری حکومت آتی رہی لیکن یونینز کی بحالی اور ان کے الیکشن کرانے کا وعدہ کسی حکومت نے پورا نہیں کیا اور یہ حکومتیں طلبہ کو ان کا جمہوری حق دیئے بغیر ہی رخصت ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے11 سال قبل قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ججوں کی رہائی کے ساتھ ہی 100 روز کے اندر طلبہ یونین کو بھی بحال کرنے کا وعدہ کیا لیکن کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ آصف زرداری نے صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا لیکن پانچ سال کے دوران اس معاملے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی اب اس منصب پر فائض ہیں مگر طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے جاتے اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف وعدے کے باوجود طلبہ کو ان کا جمہوری حق دینے کیلئے تیار نہیں حتیٰ کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد 73ء کا آئین بحال کرنے کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے لیکن اس میں بھی طلبہ یونینز کی بحالی کا ذکر یا شق سرے سے موجود نہیں۔ تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے وزیراعظم نواز شریف نے بھی چار سال تک اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور رخصت ہوگئے، تحریک انصاف کے نئے وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی نے تو خیبر پختونخوا میں بھی طلبہ یونینز کے الیکشن نہیں کرائے ۔ عمران خان نے یونینز کی بحالی کا وعدہ اپنے منشور میں بھی کیا تھا لیکن صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود طلبہ یونین بحال نہ کی گئی۔ سابق آمر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے 1984ء میں پابندی عائد کیے جانے کے بعد 1988ء میں جب بینظیر بھٹو نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے یہ پابندی اُٹھانے کا اعلان کیا لیکن عمل صرف پنجاب حکومت نے کیا، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں الیکشن کرائے لیکن سندھ بلوچستان اور صوبہ سرحد اور اسلام آباد جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی میں طلبہ کے الیکشن نہیں ہوئے۔ اسی طرح پنجاب کے علاوہ ملک بھر میں 35 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پاکستان کے طلبہ اپنے مسائل کے حل کیلئے اپنا امیدوار منتخب نہیں کر سکتے۔ ملک میں ٹھیلہ لگانے والا ووٹ دے سکتا ہے لیکن طلبہ کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ دور حکومت میں طلبہ یونینوں کی بحالی کے حوالے سے اپنے وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی تھی جس نے طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے سفارشات کو حتمی شکل دینا تھی لیکن کمیٹی کے ارکان نے اس ایشو میں دلچسپی نہیں لی۔ اس کے علاوہ ایک ادارے، سابق گورنر سرحد اویس غنی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات میں تعینات ریٹائرڈ وائس چانسلرز حضرات نے بھی طلبہ یونینوں کی بحالی کی مخالفت کی تھی تاہم خوش آئند امر یہ تھا کہ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے طلبہ یونینوں کی بحالی کے لئے آواز اُٹھائی تاہم کسی حکومت نے طلبہ یونینوں کیلئے انتخابات نہیں کرائے چار سال قبل جب آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اس وقت کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے آزادکشمیر میں طلبہ یونینز بحال کراکے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا تھا لیکن وہ الیکشن کرانے میں ناکام رہے اور ان کے بعد قائم ہونے والی حکومت نے چار سال گزرنے کے باوجود طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے۔
حالیہ دنوں میں طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد موجودہ حکومت پر بھی یہ پریشر آیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے اور اب اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے مثبت بیان کے بعد امید پیدا ہوگئی ہے کہ شاید کپتان اس کام کا کریڈٹ لے لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close