طلبہ تحریک پر حکومتی قول و فعل میں تضاد، مقدمات درج

وزیراعظم عمران خان نے حالیہ طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کا عندیہ تو دے دیا ہے لیکن دوسری طرف یہ مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکلنے والے طلباء کو نہ صرف گرفتار کیاجارہا ہے بلکہ اُن کے خلاف بغاوت کے مقدمات بھی درج کیے جارہے ہیں جس سے حکومت کے قول و فعل کا تضاد کھل کر سامنے آگیا ہے۔
طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد طلبہ کی حمایت میں حکومتی نمائندوں کے حالیہ مثبت بیانات کے بر عکس پولیس نے مارچ کے منتظمین میں سے ایک نوجوان کو گرفتار اور 300 کے قریب شرکاء کیخلاف بغاوت کے الزام میں مقدمات درج کرتے ہوئے کارروائی شروع کردی ہے۔ طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد سے حکومتی ارکان مسلسل طلبہ کو ان کے جائز مطالبات دینے کی حمایت میں بیان دیتے رہے ہیں لیکن عملی طور پر ان بیانات پر یوٹرن لیتے ہوئے حکومت نے طلبہ تحریک کو دبانے اور طلبہ کو جیلوں میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
طلبہ یکجہتی مارچ کے سب سے سے متحرک نوجوان لیڈر عالمگیر وزیر کو پولیس نے دو روز پہلے گرفتار کرلیا تھا اور ابھی تک ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا حالانکہ ان کے ساتھی طلبا لاہور میں دو روز سے ان کی بازیابی کے لیے مظاہر کر رہے ہیں۔
لاہور سول لائن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں طلبہ مارچ کے منتظمین عمار علی جان، فاروق طارق ، اقبال لالا، عالمگیر وزیر، محمد شبیر اور کامل کے علاوہ 250 سے 300 نامعلوم شرکا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جبکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں قتل ہونیوالے مشال خان کے والد اقبال لالا کیخلاف بھی طلباء مارچ میں شرکت کرنے اور تقریر کرنے کے الزام پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے درج ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ سب انسپکٹر محمد نواز کا کہنا تھا کہ وہ پیٹرولنگ پر تھا جب اسے اطلاع ملی کہ 250 سے 300 افراد کی ریلی عمار علی جان، فاروق طارق، اقبال لالا، عالمگیر وزیر، محمد شبیر اور کامل خان کی قیادت میں نکالی جارہی ہے اور یہ ریلی دی مال پر فیصل چوک پر پہنچ گئی ہے، جہاں مظاہرین نے زبردستی سڑک بلاک کردی ہے تاکہ وہ اسٹیج بنا کر تقاریر کرسکیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقررین طلبہ کو ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف اکساتے رہے اور تقاریر اور نعرے موبائل فون پر ریکارڈ کیے گئے جبکہ انہیں پی پی آئی سی 3 کیمروں کے ذریعے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
کیپیٹل سٹی پولیس افسر ذوالفقار حمید کے مطابق ایک مشتبہ شخص عالمگیر وزیر کو 2 روز قبل مال روڈ پر ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ کیس ریاست کی جانب سے درج کروایا گیا کیونکہ طلبہ اشتعال انگیز تقاریر کررہے تھے اور ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس کیس میں ملوث دیگر لوگوں کو بھی گرفتار کرے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالبعلم عالمگیر وزیرجو پختون کونسل کے چیئرمین بھی بن تھے اور دو روز قبل کیمپس سے لاپتہ ہوگئے تھے، انہوں نے گزشتہ برس اپنا بی ایس جینڈر اسٹڈیز مکمل کیا اور وہ اپنے کزن محمد ریاض کے ہمراہ ہاسٹل نمبر 19 میں رہ رہے تھے۔ علاوہ ازیں پختون کونسل کے طلبہ نے عالمگیر وزیر کی گرفتاری کے خلاف پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرین کی جانب سے ان کی گرفتاری کی مذمت کی گئی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا بھی ان کی گمشدگی کی خبر سے بھر گیا اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں29 نومبر کو 50 شہروں میں طلبہ اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے اور ان مطالبات میں ایک طلبہ یونین کی بحالی بھی تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے طلبہ یونین کی بحالی کا عندیہ بھی دے دیا ہے لیکن دوسری طرف ریاستی اداروں کے ہاتھوں طلبا مارچ میں شامل سٹوڈنٹس کی گرفتاری سے حکومت کے قول و فعل کا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close