سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بد انتظامی، لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی چیئرمین شپ میں چلنے والے ادارے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدانتظامی اپنے عرج پر پہنچ چکی ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا ایم ڈی ہے نہ ڈی ایم ڈی اور ڈائریکٹر پروگرامز کی پوسٹ بھی عرصہ دراز سے خالی ہے۔ کلیدی پوسٹوں پر اہل افراد کی تعیناتیاں نہ ہونے سے سیف کے زیرانتظام 2400اسکولوں میں زیرتعلیم لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں اقرباء پروری اپنے عروج پر ہے اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی سابق ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن ناہید درانی اب بھی محکمے کی کرتادھرتا بنی ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل 2019 میں گریڈ 22میں ترقی کے بعد ناہید درانی کا تبادلہ کردیا گیا تھا تاہم ابھی بھی وہ ہی غیر قانونی طور پر ادارے کے تمام امور کو دیکھ رہی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ناہید درانی 3 ماہ قبل ریٹائرہونے والے اپنے شوہراقبال درانی کو ایم ڈی لگوانےکےلئے سرگرم ہیں۔ گریڈ 21 کے مستقل افسر کی جگہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی بھرتی کا اشتہار اخبارمیں دیدیا گیا۔ بھرتی کے اشتہارمیں عمرکی حد 55 سے 65 سال کی شرط رکھی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے میں گریڈ 19 کےڈی ایم ڈی اورگریڈ 18کےڈائریکٹرپروگرامزکی پوسٹ بھی چھ ماہ سے خالی ہے۔ادارے کا موجودہ انتظام نسیم الدین میرانی کے سپرد کی گئی ہے۔ نسیم الدین کی شہرت اچھی نہیں ، 2017 میں ان کی مبینہ کرپشن پر وزیراعظم ہاؤس سے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن سیف کے زیرانتظام 2400اسکولوں میں چھ لاکھ سے زائد بچے زیرتعلیم ہیں۔ سیف کا سالانہ بجٹ 9.75ارب روپے ہے ادارے میں کرپشن کے کئی کیسز اب بھی مختلف اداروں میں زیرتفتیش ہیں.



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close