پی ٹی آئی سے نظریاتی اراکین کے انخلا کا سلسلہ جاری

پاکستان تحریک انصاف سے وزیراعظم عمران خان کے پرانے اور نظریاتی ساتھیوں اور پی ٹی آئی کے بانی اراکین کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی کا پرانا نظریاتی کیڈر فارغ ہو رہا ہے اور نیا غیر نظریاتی کیڈر تیزی سے ابھر کر اوپر آرہا ہے۔ جسٹس وجیہ الدین احمد اور اکبر ایس بابر جیسے اپنے پرانے نظریاتی ساتھیوں سے جان چھڑوانے کے بعد اب کپتان نے پی ٹی آئی کا آئین لکھنے والے اپنے سب سے پرانے ساتھی حامد خان ایڈووکیٹ کو بھی فارغ کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بانی رکن اورسینئر وکیل حامد خان کی رکنیت معطل کردی ہے اور پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا میں بیانات کے ذریعے پارٹی کو بدنام کرنے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ پی ٹی آئی کے نامعلوم سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی نے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے حامد خان سے 7 روز میں تحریری وضاحت طلب کرلی ہے۔ حامد خان کو پاکستان تحریک انصاف کا پہلا آئین لکھنے والی ٹیم کا اہم ترین رکن قرار دیا جاتا ہے تاہم حال ہی میں ایک ٹی وی شو کے دوارن پی ٹی آئی پر اسٹیبلمشنٹ کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام لگا کر وہ پارٹی قیادت کے عتاب کو دعوت دے بیٹھے۔ ماضی میں حامد خان نے پارٹی میں دیگر جماعتوں کے لوٹوں کی شمولیت پر اپنی قیادت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے ان کی جماعت کے بنیادی نظریے کو نقصان پہنچے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کی جانب سے میڈیا میں جاری شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’ سیکریٹری جنرل اور پارٹی چیئرمین عمران خان نے نوٹ کیا ہے کہ حامد خان نے بارہا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پارٹی کے خلاف بات کی اور جعلی الزامات کی بنیاد پر کسی جواز کے بغیر پارٹی کو بدنام کیا‘۔
نوٹس میں حامد خان کو جعلی، جھوٹے اور غلط الزامات کے ذریعے مذموم مقاصد کے لیے پارٹی کے معاملات کو میڈیا میں لانے، پارٹی کے مفاد کے خلاف اقدام اٹھانے اور پارٹی ارکان و کارکنان کے جذبات مجروح کرنے پر مس کنڈکٹ، پارٹی نظم و ضبط اور آئین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ شوکاز نوٹس میں حامد خان کو مزید کہا گیا کہ آپ کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے پارٹی کاز کو بری طرح نقصان پہنچایا، اندرون اور بیرون ملک پارٹی کا برا تصور پیش کیا لہذا آپ کو 7 روز میں تحریری طور پر اپنی پوزیشن کی وضاحت دینے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے تاکہ آپ کے خلاف پارٹی آئین کے تحت کارروائی کی جائے جس میں پارٹی سے اخراج بھی شامل ہے‘۔ انکوائری کے حتمی فیصلے تک حامد خان کی بنیادی رکنیت فوری طور پر معطل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل نے ان کے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پارٹی امور، پارٹی کے پالیسی فیصلوں اور پی ٹی آئی کے ارکان کے خلاف گفتگو کرنے اور تبصرہ کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
تاہم جب اس حوالے سے حامد خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں جماعت سے ایسا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور انہوں نے یہ صرف میڈیا میں دیکھا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ جب انہیں نوٹس موصول ہوگا تو وہ تحریری طور پر موثر جواب دیں گے۔
تاہم انہوں نے شوکاز نوٹس انہیں باضابطہ طور پر بھیجنے سے قبل پارٹی کی جانب سے میڈیا میں جاری کرنے کے فیصلے پر اعتراض اٹھایا۔ حامد خان نے کہا کہ ایک طرف پارٹی قیادت اندرونی معاملات عوامی سطح پر سامنے لانے کا الزام لگاتی ہے اور دوسری جانب ان کی معطلی کو پبلک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے پاس اپنا تحریری جواب میڈیا کو دینے کا حق بھی محفوظ ہے اور وہ اس حوالے سے ایک بھرپور جواب دیں گے۔
تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جمہوری آزادیوں کی بات کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کے اندر جمہوریت کا قتل عام کیا جارہا ہے اور کسی بھی قسم کی اختلافی رائے برداشت نہیں کی جارہی چاہے وہ سچ پر ہی مبنی کیوں نہ ہو.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close