مفتی عبدالقوی اپنا مذاق بنوا بیٹھے

پاکستان کے معروف اور مختلف حوالوں سے تنازعات کا شکار رہنے والے مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ کیس سے باعزت بری ہو گئے ہیں لیکن آج کل سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ دبئی کی سیر کررہے ہیں اور اس دوران انہوں نے ایک ویڈیو بنائی جس میں آسمان سے باتیں کرتی چند عمارتیں دکھائی گئیں جسے مفتی عبدالقوی نے اسحاق ڈار کی قرار دیاہے لیکن دراصل یہ عمارتیں ” ڈار“ کی نہیں بلکہ ” دیار “ کی نکلی ہیں۔


تفصیلات کے مطابق مفتی عبدالقوی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ ”میں اس وقت دبئی کے ”بزنس بے“ کے علاقے میں کھڑا ہوں جو کہ بہت ہی مہنگا علاقہ ہے، یہاں پر ایک بعد دوسری اور تیسری، پھر اس میں چار عمارتیں اکھٹی، یہ اسحاق ڈار کی ہیں، اس نے پاکستان کو لوٹنے کے بعد یہ عمارتیں خریدیں اور اب ان کا کھا رہا ہے۔ مفتی عبدالقوی نے اپنے ویڈیو پیغام میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
مفتی عبدالقوی کی ویڈیو وائر ل ہونے کے بعد صحافی ” زاہد گشکوری “ نے اپنے تئیں ان عمارتوں کی معلومات حاصل کرنے کےلیے کچھ تحقیقات کیں اور دبئی کی لینڈ اتھارٹی سے رابطہ کیا تو انہیں اس کا جواب نہایت حیران کن ملا جسے انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے پیغام جاری کیا ۔صحاف زاہد گشکوری نے اپنے پیغام میں لکھا کہ “مفتی عبدالقوی لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، بزنس بے میں جن چار عمارتوں کا یہ اسحاق ڈار کی ملکیت میں ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں دراصل وہ معرو ف رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز ”دیار“ کی ہیں۔ صحافی کا کہناتھا کہ لینڈ اتھارٹی سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی عمارتوں کا تعلق ” دیار “ سے ہے جو کہ دبئی اسلام بینک کا سابق یونٹ بھی تھا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ”دیار“ دبئی کی علاقائی اور مقامی رئیل اسٹیٹ دویلپراور ریئل سٹیٹ سروسز کمپنی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close