عمران فاروق قتل کیس, برطانوی گواہان نے اہم شواہد عدالت میں پیش کر دئیے

ایم کیو ایم کے مقتول رہنما عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی گواہان نے اہم شواہد اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرادئیے ہیں۔ لندن میں عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کرنے والے برطانوی چیف انویسٹی گیشن آفیسر نے عدالت کے روبرو ریکارڈ پیش کیا۔ برطانوی پولیس کی جانب سے عدالت میں آلہ قتل اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ کرائم سین کی ڈائیا گرام اور نقشہ بھی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے لندن میں ایم کیو ایم کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران لندن پولیس کے چیف انویسٹی گیشن افسر اسٹیورڈ گرین وے، سارجنٹ اور کانسٹیبل اپنا بیان ریکارڈ کرانے پہنچے۔ اس موقع پر تینوں ملزمان خالد شمیم، محسن اور معظم علی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
عمران فاروق کیس کے برطانیہ میں چیف انویسٹی گیشن آفیسر اسٹیورڈ گرین وے نے ریکارڈ پیش کرایا جس میں آلہ قتل ایک اینٹ ، دو تیز دھار چاقو، انگلیوں کے نشان، واقعے کی ویڈیوز، ملزم کی برطانیہ پہنچنے سے متعلق دستاویزات ، تعلیمی ریکارڈ، کالج حاضری اور ای میلز شامل ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران فاروق کیس کی تفتیش کا نام “آپریشن ہیسٹار “ رکھا گیا تھا۔
سماعت کے دوران ملزم معظم علی نے ایک ہاتھ سے ہتھکڑی کھولنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ 4 گھنٹوں سے دونوں ہاتھوں پر ہتھکڑی لگی ہوئی ہے ہاتھوں کے درمیان گنجائش کم ہے، جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے کہ برطانوی گواہ اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں ابھی آپ انتظار کریں۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں3 اہم برطانوی گواہان میں لندن پولیس چیف انسپکٹر،سارجنٹ ، کانسٹیبل شامل ہیں۔ گوہان کے بیان ریکارڈ کرنے کے دوران جوڈیشل کمپلیکس میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ اسلام آباد پولیس کے تازہ دستے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تعینات تھے۔
یاد رہے مذکورہ کیس میں عدالت عالیہ کے حکم پر ٹرائل کورٹ نے کارروائی روک رکھی ہے اور ایف آئی اے کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں عدالت نے غیرملکی گواہان کو پیش کرنے کے لیے20 سے 25دن کی مہلت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 2 دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، ایف آئی اے نے بتایا کہ مارچ کی وجہ سے گواہان کو پیش کرنے میں خطرہ تھا۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی حکومت نے اہم شواہد پاکستان کے حوالے کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کو 26 دستاویزات اور کچھ تصویری شواہد فراہم کیے گئے تھے۔ پاکستان کے حوالے کیے گئے کاغذات میں ڈاکٹرعمران فاروق کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی شامل تھے۔ برطانوی شواہد میں فرانزک رپورٹ، اہم ترین گواہوں کے بیانات اور فنگر پرنٹس رپورٹس تیار کرنے والے ماہرین کے بیان بھی شامل تھے۔
خیال رہے برطانیہ نے عمران فاروق قتل کیس کے تمام شواہد پاکستان کو فراہم کرنے کے لئے رضامندی ظاہر کی تھی جبکہ پاکستان نے برطانیہ کو ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا، حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے گئے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاونڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی تھی۔ بعد ازاں ایف آئی اے نے 2015ءمیں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اسی سال محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close