آرمی چیف توسیع: قانون سازی پر حکومت کی دوغلی پالیسی

حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے دوغلی پالیسی اپنارکھی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے اپوزیشن کو مافیا قرار دیتے ہوئےمسلسل تنقیدی وار جاری ہیں جبکہ دوسری طرف توسیع بارے ترمیم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں ایک 3 رکنی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ حکومتی مذکراتی کمیٹی شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور اسد عمر شامل ہیں۔ حکومتی کمیٹی آرمی چیف کی توسیع سے متعلق قانون سازی کے لئے اپوزیشن سے مذاکرات کرے گی۔ تاہم ابھی تک اس مذاکراتی کمیٹی نے صرف ایم ایم ایم کی قیادت سے ملاقات کی ہے جبکہ ابھی تک پیپلز پارٹی’ نون لیگ اور جمیعت علماء اسلام کے قیادت سے رابطہ نہیں کیا گیا۔
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے تجویز کردہ الیکشن کمیشن ارکان کے نام پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کردئیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں سیکرٹری قومی اسمبلی اور سیکرٹری سینیٹ بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے دیے گئے ناموں پر مشاورت ہوئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ بات چیت کے ذریعہ جلد معاملہ حل کر لیں گے اور ڈیڈ لاک جلد ختم ہو جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے تجویز کردہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیئے ہیں، پارلیمانی کمیٹی سے کہا ہے کہ ان ناموں پر مشاورت کر کے آگاہ کریں پارلیمانی کمیٹی کا اس سلسلے میں 3 دسمبر کواجلاس ہوگا جس میں ان ناموں پر مشاورت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور وزیر اعظم عمران خان نے سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لیے 3 ،3 نام تجویز کئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے سندھ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ صادق بھٹی، جسٹس ریٹائرڈ نورالحق قریشی اور عبدالجبارقریشی جبکہ بلوچستان کے لیے ڈاکٹرفیض محمد کاکٹر، میرنوید جان بلوچ اور امان اللہ بلوچ کے نام تجویز کیے ہیں۔
شہباز شریف نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے ناصر محمود کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام تجویز کیے ہیں، جبکہ دو ارکان کی تقرری کے لیے بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی ایڈووکیٹ، سابق ایڈووکیٹ جنرل محمد رؤف عطاءاور راحیلہ درانی جب کہ سندھ کے لئے نثار درانی، جسٹس(ر) عبدالرسول میمن اور اورنگزیب حق کے نام تجویز کئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن سے متعلق درخواست پر اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے 6 ماہ میں آرٹیکل 243 کی وسعت کا تعین کیا جائے۔عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ 6 ماہ تک بطور آرمی چیف اپنی خدمات جاری رکھیں گے، ان کی موجودہ تقرری پارلیمنٹ کی قانون سازی سےمشروط ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے آئینی ترمیم کی بجائے آرمی ریگولیشنز میں ایکسٹنشن کا لفظ شامل کرکے اسمبلی اجلاس میں اسے سادہ اکثریت سے منظور کرانے کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف وزیر اعظم کے جارحانہ رویہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ قانون اور اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر کام شروع کر دیا ہے اور اس بات کا قومی امکان ہے کہ حکومت آرمی ایکٹ میں چند ہفتوں میں ترمیم کرےگی اور 4 دسمبرکوشروع ہونےوالےقومی اسمبلی کے اجلاس میں سادہ اکثریت سے اسے مںظورکرلےگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، سپیکراسد قیصر اور سابق وزیرِ اعلیٰ کےپی کے پرویز خٹک اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین جیسے رہنما اپوزیشن کو ساتھ ملانے کی حمایت میں ہیں اور اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مسئلہ اپوزیشن کی حمایت کے ساتھ آئینی ترمیم کے ذریعے ہمیشہ کیلئے حل کر لیا جائے جبکہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طورپر اپوزیشن کوساتھ ملانے کے موڈ میں نہیں ہیں اور ان کیلئے مستقل طورپر مافیا کا لفظ استعمال کر کے اپوزیشن کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ عمران خان کا جارحانہ رویہ آئینی ترمیم میں اتفاق رائے میں بڑی رکاوٹ ہے
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243میں آرمی چیف کی تقرری/توسیع میں ابہام دور کرنے کے لئے آئینی ترمیم کو ناگزیر سمجھا گیا تو اپوزیشن کی حمایت کے بغیر آئینی ترمیم کی منظوری ناممکن ہے کیونکہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے جو حکومت کی جانب سے کسی بھی بل کی منظوری کو ایک بار روک سکتی ہے یا اسے مسترد کر کے دوبارہ قومی اسمبلی کو بھجوا سکتی ہے۔ سینیٹ معمول کی قانون سازی کو موخر بھی کر سکتی ہے آئینی ترمیم منظور کرنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’’دوستانہ‘‘ ماحول پیدا ہونا ضروری ہے اس کیلئے حکومت کو اپنے جارحانہ رویہ پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ حکومت نے اپوزیشن بارے میں جو طرز عمل اختیار کر رکھا ہے اس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔ اگر حکومت کا موجودہ طرز عمل برقرار رہا تو اپوزیشن آئینی ترمیم یا ایکٹ آف پارلیمنٹ پر تعاون کے لئے کسی حکومتی عہدیدار سے بات نہیں کرے گی۔ جس سے اہم قانون سازی پر اتفاق رائے ممکن نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close