کراچی میں لڑکی کے اغوا میں سابقہ منگیتر کے ملوث ہونے کا شبہ

روشنیوں کے شہر کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونیوالی لڑکی کو تاحال بازیاب نہ کرایا جا سکا۔ تاہم پولیس نے لڑکی کے اغوا میں سابقہ منگیتر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کر دیا۔
کراچی میں ڈی ایچ اے کے مصروف ترین علاقے میں لڑکی کے اغوا کے پیچھے مقاصد اور اس میں ملوث افراد کے حوالے سے پولیس ذرائع کاکہنا ہے کہ دعا نامی لڑکی کے اغوا میں سابقہ منگیتر ملوث ہو سکتا ہے جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہے ۔تاہم اس حوالے سے ابھی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی ڈاکٹر سید کلیم امام نے اس مبینہ اغوا کی تیز تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ کو کہا ہے کہ وہ ملوث عناصر کی گرفتاری اور لڑکی کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن چینل اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرے۔
لڑکی کے اغوا کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی میں موجود کچھ 5 مسلح افراد نے سڑک پر ٹہلنے والے لڑکی اور اس کے نوجوان دوست کو روکا۔ لڑکے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے فائر کر دیا جو لڑکے کی گردن پر لگا اور اسے وہاں زخمی چھوڑ کر لڑکی کو لے کر فرار ہوگئے۔تاہم ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے اغوا ہونیوالی لڑکی اور زخمی نوجوان کی شناخت کا پتہ لگایا تھا ، جس میں لڑکا کلفٹن کے علاقے کا رہائشی جبکہ لڑکی کورنگی کراسنگ کی رہائشی ہے اور یہ دونوں اپنی 20 کی دہائی میں ہیں اور دونوں مختلف نجی جامعات کے طالبعلم ہیں’، اس کے علاوہ ‘دونوں کے اہل خانہ پولیس سے رابطے میں ہیں جبکہ اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور پولیس ٹیم جلد از جلد کیس کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
پولیس نے زخمی نوجوان کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل)، دفعہ 365 (اغوا یا خفیہ اور غلط طریقے سے شخص کو قید کرنے کے لیے اغوا کرنا) کے تحت ایف آئی آر (2019/771) درج کی ہے ۔جبکہ ایس ایس پی نذیر کے مطابق لڑکی کے اغوا کے پیچھے کسی ذاتی مقاصد بھتہ خوری یا ذاتی دشمنی جیسے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
قبل ازیں واقعے سے متعلق درخشاں تھانے کے عہدیدار نے بتایا کہ یہ دن کے ابتدائی اوقات میں ہوا جب ایک کار نے نوجوان لڑکی کو روکا جو ڈی ایچ اے بخاری کمرشل کے علاقے میں ایک نوجوان کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر دونوں نے کچھ مزاحمت کی لیکن یہ زیادہ دیر تک اسے جاری نہ رکھ سکے کیونکہ گاڑی میں موجود ایک شخص نے پستول نکال کر متعدد فائر کیے، جس سے نوجوان زخمی ہوگیا اور زمین پر گر گیا جبکہ لڑکی کو کار میں سوار مردوں نے کھینچ لیا۔ان کے بقول کچھ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ وہاں 5 مرد تھے اور انہوں نے دیکھا ان میں سے کم از کم 2 مسلح تھے۔تاہم واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد سڑک کنارے موجود تھی، کچھ ہی سیکنڈز میں علاقہ ویران ہوگیا اور دکانداروں نے اپنے کاروبار معمول کے اوقات سے قبل بند کردیے۔مذکورہ واقعے کے کچھ دیر بعد ہی پولیس موقع پر تو پہنچ گئی تاہم اب تک وہ واقعے کے کچھ حصے کو حل کرسکی ہے اور لڑکی تاحال بازیاب نہیں ہو سکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close