یورو 4 پیٹرول ماحول دوست مگر جیب پر بھاری

حکومت کی طرف سے ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے آئندہ ماحول دوست یورو فور تیل درآمد کرنے کے اعلان کے بعد پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا قیمتوں پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا بلکہ فی لیٹر دو روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے ۔تاہم بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے پیش نظر یہ قدم اٹھا نا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے یورو ٹو تیل کی درآمد بند کرکے یورو فور تیل درآمد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور سموگ ختم کرنے کی پالیسی تیار کرلی ہے، جس کے تحت یوروٹو کی بجائے یوروفور تیل درآمد کیا جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فی الحال ہم یورو فور پر منتقل ہو رہے ہیں لیکن امید ہے کہ 2020 کے آخر تک سارا تیل یورو فائیو پر منتقل ہو جائے گا، جس سے فضا میں آلودگی 90 فیصد کم ہوجائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ہم مہنگا تیل درآمد کریں گے، آپ سوچ لیں پیسے پیارے ہیں یا جان؟
اس حوالے سے سابق ڈائریکٹر جنرل آصف شجاع نے دعویٰ کیا کہ یوروفور کی درآمد سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے وفاقی ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات کے یورو فورتیل کی قیمتوں کا عام آدمی پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوتا ہے، اس سے آئل ریفائنریز کی سطح پر کنٹرول کیا جاسکے گا۔ آصف شجاع کے مطابق یہاں استعمال ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل میں سلفر کی مقدار ایک فیصد ہے، آئل ریفائنری انٹرسٹری کو اسے 0.5 فیصد پر لانے کا پابند کیا جانا چاہیے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ مقدار 0.5 فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک تو کم سلفر والا کروڈ آئل خریدنے سے اس کی قیمت تھوڑی زیادہ ہوتی ہے دوسرا آئل ریفائنریز کے ذریعے لو سلفر کروڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس کا قیمتوں پر زیادہ فرق نہیں پڑتا اور فی لیٹر دو روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
آصف شجاع نے کہا کہ ’اٹھارویں ترمیم سے پہلے کلین فیول پروگرام کے تحت یورو ون سے یورو ٹو کے معیار کا ڈیزل اور پیٹرول استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا تھا کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل میں سلفر کی مقدار کم کرنا ضروری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یورو ٹو سے آکٹین نمبر جلنے کی صلاحیت بڑھائی گئی اور وزارتِ پیٹرولیم نے آئل ریفائنری انڈسٹری کو قائل کیا کہ وہ ریفائننگ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی کم کرنے میں مدد کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ماحولیات میں بہتری کا نظام صوبوں کو سونپا گیا لیکن کسی صوبائی حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی۔
آصف شجاع کے مطابق امریکہ اور یورپ میں الٹرا ڈیزل استعمال ہو رہا ہے۔ چین میں بھی بہتر معیار کا تیل استعمال کیا جارہا ہے، اسی طرح بھارت میں بھی یورو سکس کوالٹی کا تیل استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ ایران بھی پاکستان کی طرح اب تیل کا معیار بہتر کر رہا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آصف شجاع کا کہنا ہے کہ محکمہِ فوڈ اینڈ ایگریکلچر کی ایک تحقیق کے مطابق 43 فیصد ماحولیاتی آلودگی گاڑیوں کا ایندھن جلنے سے، 25 فیصد فصلیں جلانے اور انڈسٹری سے نکلنے والے دھویں سے اور 20 فیصد سلفر ڈائی ایکسائیڈ اور نائٹروجن سے پھیل رہی ہے۔ جب کہ دھویں میں پرٹیکولیٹ میٹر (پی ایم) کی مقدار 2.5 ہونے سے چھوٹے چھوٹے ذرات نکل کر سانس کے ذریعے انسانی خون میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کے ماہر عمیر نصیر کے مطابق ماحولیاتی آلودگی نے ویسے تو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں یہ سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا ہائبرڈ ٹیکنالوجی اور الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہی ہے، لہذا ہمیں بھی مستقبل میں آلودگی کم کرنے والی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی ابھی سے بنانا ہوگی۔
عمیر نصیر کے مطابق بھارت، پاکستان اور چین کے بعد ایران میں بھی سموگ پھیل چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اس پورے خطے کو مل کر موثر اور جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔ اس کے لیے نہ صرف آئل ریفائنریز کے ذریعے یوروفور کے معیار کی پیٹرولیم مصنوعات پر توجہ دینا ہوگی بلکہ انڈسٹری اور دیگر ذرائع سے پھیلنے والی آلودگی پر بھی قابو پانا ہوگا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، خاص طور پر لاہور اور پنجاب میں ہر سال سموگ سے انسانی جانوں کو لاحق شدید خطرات کے باعث حکومت نے درختوں اور جنگلات کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے علاوہ اعلیٰ معیار کی پیٹرولیم مصنوعات بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close