کیا بچی کو سنگسار کرنے کا فیصلہ PTI کے رند نے کیا؟

سندھ کے ضلع دادو میں کم سِن بچی کو مبینہ طور پر سنگسار کیے جانے کے حوالےسے اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ رند قبیلے کے مبینہ جرگے کی سربراہی وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی سردار یار محمد رند کے بیٹے بیبرک رند نے کی تھی۔
تاہم بیبرگ رند نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ بلوچ روایات میں تو کارو کاری قرار دئیے گئے افراد کا جنازہ ہی نہیں پڑھایا جاتا پھر الزام لگانے والے امام مسجد نے کاروکاری کے الزام میں قتل ہونے والی بچی کا جنازہ کیسے پڑھا دیا۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سردار یار محمد رند کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا اور بچی کی موت حادثاتی تھی۔ پولیس نے سنگساری کیس تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے نعش کی میڈیکل ایگزامینیشن اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے قبر کشائی کی اجازت حاصل کر لی ہے۔ اس سے پہلے دادو کے واہی پندھی تھانے میں پولیس کی مدعیت میں 10 سالہ لڑکی کے غیرت کے نام پر مبینہ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد مقتولہ کے والدین اور جنازہ پڑھوانے والے مولوی کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق 21 نومبر کو مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رند قبیلے کی کم سن بچی گل سماں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا اور بعد ازاں اس کی نعش کو قریبی پہاڑی کے دامن میں دفنا دیا گیا۔ واقعے کی خبر چلنے کے بعد اب یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ رند قبیلے کے مبینہ جرگے کی سربراہی وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی سردار یار محمد رند کے بیٹے بیبرک رند نے کی تھی۔ تاہم بیبرک رند کا کہنا ہے کہ یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے اور ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچی کی حادثاتی موت کے واقعے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف سازشی مہم چلائی جا رہی ہے جس کی پشت پناہی رکن قومی اسمبلی رفیق جمالی اور سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کے بیٹے کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ روایات کے مطابق اگر کسی کو جرگے میں کارو کاری قرار دیا جائے تو اس کا جنازہ نہیں پڑھایا جاتا نہ ہی کفن دفن کیا جاتا ہے تو پھر الزام لگانے والے امام مسجد نے بچے کی نماز جنازہ کیسے ادا کردی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے خلاف پی ٹی آئی کو 25 ہزار ووٹ ملے جس میں سے نو ہزار ووٹ رند قبیلے کے تھے، جس کی پاداش میں پیپلز پارٹی رند قبیلے کے افراد کے خلاف انتقامی کاروائی کر رہی ہے۔
بیبرک رند کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس دن ان کے بھتیجے کی سالگرہ تھی اور وہ بلوچستان میں تھے، اس موقع کی تصاویر اور وڈیوز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بچی کی قبر کشائی کر کے نعش کی بے حرمتی کی جائے گی تاہم اگر اس سے انصاف کی راہ ہموار ہوتی ہے تو وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
دوسری طرف صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ بچی کے والد کے بیان کے مطابق بچی پہاڑی جگہ سے گرنے کے بعد پتھر لگنے سے جاں بحق ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس جرگہ سے متعلق کوئی شواہد ہیں ہے تو وہ حکومت سندھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ قبر کشائی سے متعلق عدالت کے احکامات کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا، اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس نے علاقے کے سیشن جج کو میڈیکل افسر اور عدالت کا متعلقہ عملہ تعنیات کرنے کے لیے درخواست کر دی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے بیچ کی پہاڑی سرحد کے قریب واقع گاؤں میں سنگسار ہونے والی گل سماں کے قتل اور قبر کی نشاندھی اس کا جنازہ پڑھانے والے مولوی ممتاز لغاری نے کی جس کے بعد پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور نامزد افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں مقتولہ کا والد علی بخش رند، والدہ لیلی رند، ممتاز لغاری اور تاج محمد رستمانی شامل ہیں۔ لڑکی کا جنازہ پڑھانے والے مولوی کو جرم کی پشت پناہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close