بدزبان چوہان دوبارہ وزیر اطلاعات پنجاب بن گئے

بدزبان فیاض الحسن چوہان کی بطور وزیر اطلاعات پنجاب واپسی سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ تحریک انصاف میں جو جتنی زیادہ بد زبانی اور زبان درازی کرے گا اس کا مستقبل بھی اتنا ہی روشن ہو گا۔
اپنی بدزبانیوں اور تنازعات کی وجہ سے شہرت رکھنے والے فیاض الحسن چوہان کو دوبارہ وزیراطلاعات پنجاب کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔ پنجاب کے وزیر انڈسٹریز میاں اسلم اقبال کی جانب سے محکمہ اطلاعات کی اضافی ذمہ داریوں سے معذرت کے بعد صوبائی وزیر کالونیز فیاض الحسن چوہان کو دوبارہ وزارت اطلاعات کا قلمدان بھی دے دیا گیا ہے۔ میاں اسلم اقبال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حلقے کی مصروفیات کے باعث دو وزارتوں کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہے لہذا انہوں نے اطلاعات کے محکمے کی اضافی ذمہ داریاں چھوڑنے کے بارے وزیر اعلیٰ پنجاب کو آگاہ کر دیا تھا۔ چنانچہ 2 دسمبر کو فیاض الحسن چوہان کو وزیر اطلاعات بنانے کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کو بطور وزیر اطلاعات پنجاب تعینات کرنے کا فیصلہ ایک ہفتہ پیشتر ہو گیا تھا جس کے بعد میاں اسلم اقبال کو یہ عہدہ چھوڑنے کا پیغام دے دیا گیا تھا۔ میاں اسلم اقبال پر الزام ہے کہ وہ بھی علیم خان کی طرح وزارت اعلی پنجاب کے امیدوار ہیں اور عثمان بزدار کے خلاف سازشوں میں شریک تھے۔
یاد رہے کہ فیاض الحسن چوہان ان چند بد تمیز حکومتی اراکین میں شامل ہیں جو اپنی بدزبانیوں اور متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ رواں برس مارچ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران فیاض الحسن چوہان نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے جواب میں سخت الفاظ میں بھارتیوں کے بجائے ہندوؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ہندو برادری کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے جس کا وزیراعظم عمران خان نے سختی سے نوٹس لیا تھا اور انہیں وزرات سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔
لیکن ایسا پہلی بار نہیں تھا کہ فیاض الحسن چوہان کسی متنازع بیان کی وجہ سے زیر عتاب آئے ہوں، وہ ماضی میں بھی اپنے بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ گزشتہ برس اگست میں فیاض الحسن چوہان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک تقریر میں پاکستان فلم انڈسٹری اور اداکارہ نرگس اور میگھا کے خلاف نازیبا گفتگو کرتے نظر آئے تھے۔عید الاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی-2‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ کیا کوئی وکھری جوانی ہے جو سینما گھروں پر آئی ہوئی ہے، کیا یہ انسانیت ہے؟ آدھی ننگی عورتوں کی تصاویر پرنٹ کرکے سینما گھروں کے باہر لگادی ہیں، ایسے لوگوں کے لیے ٹوٹے موجود ہیں جو وہ دیکھ لیتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’میری کوشش تھی کہ یہ معاملہ میری وزارتی حدود میں آتا، تو پھر میں نرگس کو حاجی نرگس نہ بناتا اور میگھا کو سال کے 30 نہیں 300 روزے نہ رکھواتا تو آپ مجھے کہتے‘۔ اس بیان پر اداکارہ نرگس سمیت فنکاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدیدردعمل دیا تو فیاض الحسن چوہان کو معافی مانگنا پڑا۔
بعدازاں اکتوبر میں فیاض الحسن چوہان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریف خاندان کے ساتھ ’کشمیری‘ لفظ کو طنزیہ لہجے میں استعمال کیا تھا جس کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال اگست میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران فیاض الحسن نے میزبان کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا تھا اور گالی دی تھی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران میزبان کی جانب سے ان کے پرانے کلپس چلانے پر چوہان میڈیا پر برہم ہوگئے تھے۔
جب فیاض الحسن چوہان اپنے سیاسی مخالفین کو نامناسب القابات سے نوازنے لگے تو میزبان نے انہیں ٹوکا جس پر وہ انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلے گے۔ یہی نہیں فیاض الحسن چوہان مائیک نکالتے ہوئے گالیاں دیتے رہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی تاہم بعد میں اس پر بھی انہوں نے معذرت کر لی تھی۔
چوہان کئی مرتبہ صحافیوں سے بھی الجھ چکے ہیں اوران کے لیے قابل اعتراض زبان استعمال کر چکے ہیں۔ اس سال جنوری میں لاہور میں ایک صحافی کے سوال پوچھنے پروہ ان پر برس پڑے اور کہا تھا کہ ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔ اس رویے پر صحافیوں نے کئی دن ان کا بائیکاٹ کیا جس کے بعد فیاض الحسن چوہان نے معافی مانگ لی تھی لیکن چوہان کی ان تمام تر بدتمیزیوں اور بدزبانیوں کے باوجود انہیں وزیر اطلاعات مقرر کر دیا گیا ہے جس کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف میں جو جتنا بد تمیز اور بد زبان ہے اس کا اتنا ہی روشن مستقبل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close