طلبہ پر درج ایف آئی آر واپس لی جائے

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے طلبہ مارچ کے منتظمین کے خلاف ریاستی کارروائی پر اعتراض کردیا، انہوں نے مارچ کے منتظمین اور شرکا کے خلاف درج مقدمے پر پنجاب اور دیگر حکومتوں پر زور دیا کہ طلبہ پر ہونے والی ایف آئی آر کو واپس لیا جائے۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں مکمل اس خیال کی حمایت کرتا ہوں کہ طلبہ یونین کو بحال کرنا چاہیے، تاہم ہمارے جو تحفظات ہیں وہ ماضی کی سیاست کی وجہ سے ہے، جہاں طلبہ یونین کو سیاسی جماعتوں نے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کیا، ہم نے اس میں فرق ڈالنا ہے۔ ہارورڈ، اوکسفرڈ، کیمبرج یونیورسٹیز میں بھی طلبہ یونینز ہیں اور وہ بھی بغیر ہتھیاروں کے کام چلا رہے ہیں تو ہمارے ہاں بھی یونینز کو بغیر اسلحے اور پرتشدد ماحول کے ایک اسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی بھی جمہوری ملک میں طلبہ یونین ان کے جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے، تاہم سیاسی معاشرہ طلبہ یونین پر پابندی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ طلبہ کے خلاف جو ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، اس پر پنجاب اور دیگر حکومتوں سے کہتا ہوں کہ ان مقدمات کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کئی جگہوں پر زیادتیاں بھی ہوتی ہیں، کچھ تقریریں نامناسب بھی ہوئی ہوں گی لیکن بچے ناخلف بھی ہوتے ہیں اس پر ماں ان کو گھر سے تو نہیں نکال دیتی۔
خیال رہے کہ 29 نومبر کو طلبہ یونین کی بحالی سمیت مطالبات کا چارٹر پیش کرنے کےلیے اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ملک بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں طلبہ، رضاکاروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تاہم بعد ازاں لاہور میں سول لائن پولیس نے طلبہ یکجہتی مارچ کے منتظمین اور شرکا کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمات درج کرلیے اور عالمگیر وزیر نامی ایک شخص کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔
سول لائن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں مارچ کے منتظمین عمار علی جان، فاروق طارق، (مشال خان کے والد) اقبال لالا، (پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے) عالمگیر وزیر، محمد شبیر اور کامل کے علاوہ 250 سے 300 نامعلوم شرکا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
اس حوالے سے کیپیٹل سٹی پولیس افسر ذوالفقار حمید نے ڈان کو بتایا تھا کہ ایک مشتبہ شخص عالمگیر وزیر کو 2 روز قبل اس کیس میں گرفتار کرلیا گیا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ یہ کیس ریاست کی جانب سے درج کروایا گیا کیونکہ طلبہ اشتعال انگیز تقاریر کررہے تھے اور ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس کیس میں ملوث دیگر لوگوں کو بھی گرفتار کرے گی۔
تاہم اس کیس میں نامزد عمار علی جان اور کامل نے لاہور کی مقامی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی جبکہ عالمگیر وزیر کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close