سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن احتجاجاً مستعفی

ریٹائرمنٹ سے صرف دو ہفتے پیشتر ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ہٹائے جانے پر ناراض بشیر میمن نے احتجاجاً وفاق کی ملازمت سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھجوائے گئے استعفیٰ میں انہوں نے کہا ہے کہ سرکاری افسر کو ریٹائرمنٹ کے نزدیک ہتا دینا اور پھر پوسٹنگ نہ دینا مروجہ آداب کی خلاف ورزی ہے۔ ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل تبادلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت مجھ سے خوش نہیں لہذا حکومتی فیصلے کے پیش نظر میں ملازمت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔
ذرائع کے مطابق بشیر میمن حکومت سے کچھ ایشوز پر اختلافات کی وجہ سے چھٹی پر چلے گئے تھے۔ ان پر حزب اختلاف کے لیڈروں پر مقدمات بنانے کے لیے دباؤ تھا تاہم بشیر میمن نے سیاسی دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے بشیر میمن کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سرکردہ رہنماؤں کیخلاف کیسز بناکر گرفتاری کا ٹاسک دیا گیا تھا تاہم انہوں نے عدم شواہد کی بنیاد پر ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر ان کے اپنے باس وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور انہیں چھٹی پر جانا پڑا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بشیر میمن 28ستمبر سے چھٹی پر تھے جسے بڑھاتے رہے تاہم گذشتہ پیر کو چھٹی ختم ہونے پر بشیرمیمن نے عہدے کا چارج سنبھال لیاتھا جبکہ بشیر میمن اپنے پنشن کاغذات کی تیاری کے لئے آخری 10 دن ڈیوٹی پر آئے تھے۔ تاہم وفاقی حکومت نے تین دن قبل سپریم کورٹ کی طرف سے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے تبادلے یا ٹرانسفر پر پابندی عائد ہو نے کے باوجود عدالتی احکامات ہوا میں اڑاتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عہدے سے ہٹاکر پاناما کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا کو ایف آئی اے کا نیا ڈی جی تعینات کر دیا تھا۔ بشیر میمن کو عہدے سے ہٹا کر ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کریں جس پر فیڈرل ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے حکومت کے اقدام سے دلبرداشتہ ہوکر 29 نومبر کو احتجاجاً اپنی ملازمت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس میں بشیر میمن کو تحقیقاتی افسر مقرر کر رکھا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عہدے پر رکھنےکا حکم دیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزارت داخلہ نےایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کو جبری رخصت پر بھیج دیا تھا اور ان کی جگہ ڈاکٹر مجیب الرحمان خان کو قائم مقام ڈی جی کا چارج دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ محض دو ہفتوں کے بعد یعنی 16دسمبر 2019 کو بشیر اے میمن کی ریٹائرمنٹ تھی لیکن اس کے باوجود چند دن قبل ہی بشیر میمن کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے واجد ضیا کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا۔بشیر اے میمن کو عہدے سے ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کی کسی اور جگہ تقرری نہیں کی گئی تھی جس سے وہ دلبرداشتہ تھے۔
واضح رہے کہ بشیر میمن کو دو سال قبل اگست 2017 میں اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ انسپکٹر جنرل پولیس آزادکشمیر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close