پاکستان میں 17 فیصد ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کو بیماری کا علم ہی نہیں

ایچ آئی وی ایڈز ایشیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پاکستان میں پھیل رہا ہے جہاں اس مرض کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ انجیکشنز اور سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیر محفوظ انتقال خون ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا ہے کہ بدقسمتی سے ایچ آئی وی ایڈز کے مرض میں مبتلا 17 فیصد لوگوں کو علم ہی نہیں کہ وہ اس بیماری سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ورلڈ ایڈز ڈے کے موقع پر قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد میں منعقدہ واک کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد میں ایچ آئی وی کی شرح 48 فیصد ہو چکی ہے۔
ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی حوصلہ شکنی کریں ، واک کا اہتمام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یو این ایڈز نے مشترکہ طور پر کیا اور اس میں پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا، یو این ایڈز کی پاکستان اور افغانستان میں نمائندہ ڈاکٹر مرلن، فہمیدہ خان سمیت مختلف یو این ایجنسیز کے سربراہان اور نمائندوں، اسکولوں کے طلباء سمیت عوام نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ ورلڈ ایڈز ڈے کے موقع پر پورے ملک کے کئی شہروں بشمول لاڑکانہ، کوٹری، سکھر اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی گئی اور ایچ آئی وی سے تدارک کے لیے آگاہی کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور وزارت صحت ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے تدارک کو بڑی اہمیت دیتی ہے لیکن اس مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عوام کو خود بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال ورلڈ ڈے کا پیغام یہ ہے کہ جب تک لوگ خود کوشش نہیں کریں گے محض حکومتی اقدامات سے اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ خون سے پھیلنے والی بیماریاں جن میں ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی شامل ہیں ، بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں اور اگر ان کا تدارک نہ کیا گیا تو آنے والے چند سالوں میں یہ پاکستان میں بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے خون سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک کے لئے ایک انجکشن سیفٹی ٹاسک فورس بنائی ہے جس کی تجویز پر پاکستان میں اگلے سال سے دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی اور ایسی سرنجز متعارف کرائی جائیں گی جو کہ صرف ایک دفعہ ہی استعمال ہو سکتی ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود تمام عالمی ادارے بشمول عالمی ادارہ صحت، یواین ایڈز، یونیسیف، یو این ڈی پی اور دیگر ادارے حکومت پاکستان سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close