قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی بنیاد غیر قانونی ہے

صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی بنیاد غیر قانونی ہے. غیر قانونی بنیاد پر کھڑی عمارت قانونی نہیں ہوتی، وزیر اعظم بھی ٹیکس حکام سے کسی شخص کی ٹیکس معلومات نہیں مانگ سکتے ہیں۔
صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیاں کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کی
2دسمبر کو ہونے والی سماعت کے موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس حکام غیر متعلقہ یا غیر مجاز آفیسر کے گوشوارواں کی تفصیل نہیں دے سکتے ہیں، وزیر اعظم بھی ٹیکس حکام سے کسی شخص کی ٹیکس معلومات نہیں مانگ سکتے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعظم اس لئے معلومات نہیں لے سکتے کیونکہ قانونی تحفظ حاصل ہے, منیر اے ملک نے کہا کہ صرف فوجداری ٹرائل کی صورت میں معلومات لی جا سکتی ہیں, جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل یہ معلومات ٹیکس حکام سے طلب کرے تو کیا یہی رکاوٹ ہو گی؟ منیر ملک نے جواب دیا کہ جوڈیشل کونسل آئینی اختیار کے تحت معلومات لے سکتی ہے,ریفرنس کی بنیاد غیر قانونی ہے. غیر قانونی بنیاد پر کھڑی عمارت قانونی نہیں ہوتی, جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا پھر شواہد کو نظر انداز کر دینا چاہئیے؟ منیر ملک نے کہا کہ شواہد کو بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے, جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ بھارت میں غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ شواہد کو بھی قابل قبول قرار دیا گیا ہے, قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ صدر مملکت کو دیکھنا چاہئیے کہ جج سے متعلق شواہد حکام نے قانونی طریقے سے اکھٹے کئے ہیں جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا جو مواد اکٹھا کیا گیا اس پر صدر مملکت کا ایکشن لینا نہیں بنتا تھا؟ منیر اے ملک نے جواب دیا کہ یس مائی لارڈ، کسی جج کے خلاف مواد مجاز اتھارٹی اکٹھا کر سکتی ہے، صدر مملکت اور کونسل شواہد اکٹھے کرنے کی مجاز ہے جبکہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ شواہد اکٹھے کرنے کی مجاز اتھارٹی نہیں ہے, غیر قانونی طریقے سے اکٹھے کیے گئے شواہد پر صدر مملکت کوئی رائے نہیں بنا سکتے۔
دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ صدر مملکت نے کسی کو مواد اکٹھا کرنے کی ذمہ داری دینی ہے تو تحریری ہو,زبانی ہدایات کی قانون میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وکیل منیر ملک نے کہا کہ وزارت قانون کسی جج کے اثاثے کا جائزہ لینے کی مجاز نہیں ہے۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت پیر 3دسمبر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔
ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا 10 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔
خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس 10 رکنی بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close