آصف زرداری کا بالآخر درخواست ضمانت دائر کرنے کا فیصلہ

سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کے پرزوراصرار پر بالآخر طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت دائر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پارٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بحٹو زرداری کے ہمراہ پمز اسپتال میں آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ دوران ملاقات جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ آصفہ بھٹو کے جذباتی ہونے پر سابق صدرعدالت میں درخواست ضمانت دائر کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے کل عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ آصف علی زرداری درخواست ضمانت کے لیے اب بھی تیار نہیں تھے تاہم آصفہ بھٹو زرداری کی درخواست پر وہ عدالت میں درخواست ضمانت کے لیے راضی ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا بنیادی مطالبہ تھا کہ آصف زرداری کو ذاتی معالج کی سہولت دی جائے لیکن اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔حکومتی ڈاکٹرز نے آصف زرداری میں متعدد بیماریوں کی نشاندہی کی تاہم سابق صدر نے ضمانت کی درخواست دینے سے روکا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے منتظر ہیں۔ امید ہے ہمیں عدالتی فیصلے سے رہنمائی ملے گی۔ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف کے رہنماؤں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے ہمارا وزیراعظم نیا ہوگا اور پھر ترمیم ہوگی وزیر اعظم ہر معاملے پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پندرہ ماہ میں درست نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے والوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے رویے سے لگتا ہے وہ قانون سازی کے لیے اتفاق رائے نہیں چاہتے اور انہوں نے پہلے بھی دوسرے معاملات میں اتفاق رائے پیدا نہیں کیا۔ اپوزیشن آرمی ایکٹ میں ترامیم کیلئے تیار، وزیراعظم سنجیدہ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم سے کوئی امید نہیں رکھ سکتے۔ ان کے کردار کی وجہ سے تمام اداروں پر منفی اثر پڑا۔ وہ صرف تحریک انصاف کے لیڈر ہیں اس ملک کے نہیں۔ انہوں نے کہا فارن فنڈنگ کا کیس تحریک انصاف کے خلاف ہے، افسوس اس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے خلاف جھوٹا کیس بنایا گیا، ہم اپنی جماعت کی فنڈنگ کے حوالے سے کچھ نہیں چھپایا۔ بلاول بھٹو نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی سب کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے ممبران کے تین ناموں پر اتفاق کیا تھا، وہی نام شہباز شریف نے وزیراعظم کو بھیجے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہاہے کہ وزیراعظم اپوزیشن کےساتھ اتفاق رائے نہیں چاہ رہے، حکومت 3 ماہ میں ایک نوٹیفیکشن نہیں بنا سکی تو مجھے نہیں لگتا کہ حکومت 6 ماہ میں قانون سازی پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے پائی گی۔ وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ہمارا سلیکٹڈ وزیر اعظم ہر موقع پر اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتا ہے، وزیر اعظم ابھی تک کنٹینر پر کھڑے ہیں، وزیراعظم کے رویے کی وجہ سے ملک کا اور ہر ادارے کا نقصان ہو رہا ہے
انہوں نے بتایا کہ ’آصف زرداری سے ملک کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات ہوئی، ہمارا یوم تاسیس کا جلسہ انتہائی کامیاب رہا، جہاں کشمیری عوام نے بھرپور شرکت کی، فیصلہ کیا ہے کہ 27 دسمبر کو محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ میں منائیں گے انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنے نظریے اور مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے، پی پی 27 دسمبر کو لیاقت باغ سے ایک بارپھر صاف اور واضح پیغام دے گی۔
۔ خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید تھے جنہیں طبیعت ناساز ہونے پر 23 اکتوبر کو پمز منتقل کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close