10 سالہ لڑکی کی مبینہ سنگساری،میڈیکل بورڈ آج قبر کشائی کرےگا

صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں 10 سالہ لڑکی گل سما کی مبینہ سنگساری کے معاملے پر میڈیکل بورڈ آج قبر کشائی کرے گا تاکہ لڑکی کے پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل ہوسکے۔
اس سلسلے میں ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد رینج نعیم شیخ نے تصدیق کی کہ میڈیکل بورڈ کے اراکین قبر کشائی کے لیے واہی پندھی کے علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔
اس 4 رکنی میڈیکل بورڈ کی سربراہی لیاقت یونیورسٹی ہسپتال سٹی برانچ کے میڈیکل سپنرنٹنڈنٹ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عدالتی احکامات پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مسعود سولنگی نے منگل کو ایک میڈیکل بورڈ قائم کیا تھا۔
قبل ازیں لڑکی کو سنگسار کرنے کی اطلاع کے بعد دادو پولیس نے ہفتے کو 10 سالہ متاثرہ لڑکی کے والدین اور اس کی نمازہ جنازہ پڑھانے والے مولوی کو گرفتار کرلیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 21 اور 22 نومبر کی درمیانی شب ضلع دادو کے کیرتھر پہاڑی علاقے میں پیش آیا تھا، یہ علاقہ صوبہ بلوچستان کی سرحد سے متصل ہے۔
پولیس نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) غلام قادر گوپنگ کی شکایت پر اس واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی تھی، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 201 اور 120 بی کو شامل کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی نے لڑکی کے والدین کے حوالے سے بتایا تھا کہ لڑکی ‘حادثاتی طور پر پہاڑ پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے’ دم توڑ گئی تھی۔
ایک سینئر عہدیدار نے بتایا تھا کہ ‘چونکہ لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کے الزامات کے باعث بغیر پوسٹ مارٹ کے دفن کیا گیا، لہٰذا قبر کشائی کا واحد طریقہ ایف آئی آر تھا، جو درج کرلی گئی تاکہ لڑکی کی موت کی وجہ کا تعین کیا جاسکے’۔
انہوں نے کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم سے یقینی طور پر کچھ سوالات کے جواب ملیں گے’۔
پولیس ابھی تک اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا جرگہ منعقد ہوا تھا یا نہیں اور اس نے لڑکی کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔
اس کے علاوہ پولیس ان رپورٹس کو بھی دیکھ رہی ہے کہ مبینہ جرگہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کے بیٹے کی صدارت میں ہوا تھا۔
ڈی آئی جی نعیم شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس واقعے پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ معاملہ تحقیقاتی مراحل میں ہے۔
علاوہ ازیں منگل کو ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد نعیم شیخ اور ڈویژنل کمشنر عباس بلوچ نے لڑکی کے زیر حراست والد علی بخش رند اور مولوی ممتاز لغاری اور ضلع کے تعلقہ جوہی کے علاقے واہی پاندھی میں مقامی برادری سے ملاقات کی اور واقعے کے بارے میں حقائق کی تصدیق کی۔
لڑکی کے والد اس بات پر زور دے رہے کہ ان کی بیٹی قریبی پہاڑی سے ایک بھاری پتھر گرنے کے بعد اس وقت سلپ ہوئی جب وہ گھر کے باہر کھیل رہی تھی۔
واضح رہے کہ علی بخش اور ان کے اہل خانہ طویل عرصے سے خانہ بدوش کی طرح زندگی گزار رہے ہیں اور زندگی کے گزر بسر کے لیے وہ مویشیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کیرتھر پہاڑ پر رہتے تھے لیکن کچھ سال قبل ہی وہ شاہی مکان منتقل ہوئے تھے۔
انہوں نے براہوی زبان میں بات کی جسے بعد ازاں ایس ایچ او واہی پاندھی تھانے نے سندھی میں ترجمہ کیا۔
لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ‘میرے پاس قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) نہیں، مجھے نہیں معلوم میں کہاں پیدا ہوا کیونکہ میرے والدین خانہ بدوش کی طرح رہتے تھے’۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘گل سما کہ نہ کسی سے شادی ہوئی تھی نہ منگنی اور میں (تفتیشی افسران) کو گمراہ نہیں کررہا’۔
علاوہ ازیں علی بخش کی اہلیہ لیلن رند نے پولیس کی خاتون اہلکار کو بتایا کہ گل سما گردن کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث انتقال کرگئی۔
دوسری جانب مقامی مسجد کے امام ممتاز لغاری کے مطابق انہیں 21 نومبر کی شام کو واہی پاندھی سے ایف آئی آر میں نامزد تاج رستامانی اور سمیع رند کی جانب سے شاہی مکان لے جایا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قبرستان کے قریب رات گزاری جبکہ لڑکی کے اہل خانہ نماز جنازہ کے لیے اس کی میت کو اگلی صبح 8 بجے کے قریب لے کر آئے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ جب لڑکی کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو میں نے اس کی لاش کو نہیں دیکھا کیونکہ رند نے رسم کے مطابق پردہ کرا ہوا تھا اور میں نے (لاش کو دیکھنے) پر اصرار نہیں کیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کی نماز جنازہ میں تقریباً درجن بھر افراد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ وہ علاقہ جہاں رند رہتے ہیں وہ کیرتھر پہاڑی علاقے میں دادو شہر سے 40 کلومیٹر دور واہی پاندھی ٹاؤن سے 15 کلومیٹر فاصلے پر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close