پولیو کے مزید 3 کیسز سامنے آگئے

ملک میں پولیو کیسز کی تعداد تھمنے کے بجائے مزید اضافہ ہوگیا اور سال کے آخری مہینے کے آغاز میں ہی مزید 3 پولیو کیسز سامنے آگئے۔
قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی لیبارٹری نے خیبرپختونخوا کے 2 جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک بچے سے حاصل کردہ نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کردی۔
رپورٹس کے مطابق ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے کری شاموزئی میں 18 ماہ کے بچے، لکی مروت کے علاقے تتر خیل میں 4 ماہ کے بچے اور لاڑکانہ کے علاقے کرانی میں 9 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔
نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں رواں برس پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 94 ہوچکی ہے جبکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے خیبرپختونخوا میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 68 تک جاپہنچی ہے۔
نئے کیسز سامنے آنے کے بعد خیبرپختونخوا کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کووآرڈنیٹر عبدالباسط کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 16 دسمبر سے انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی۔
اجلاس میں والدین سے اپیل کی گئی کہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلا کر عمر بھر کے لیے معذور کردینے والی بیماری سے محفوط رکھیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس پولیو کے 12 کیسز جبکہ 2017 میں صرف 8 کیسز سامنے آئے تھے۔
رواں برس سب سے زیادہ 68 پولیو کیس خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے جس کا ضلع بنوں پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 24 کیسز سامنے آئے۔
علاوہ ازیں صوبہ سندھ میں پولیو کے 14 کیسز بلوچستان میں7 جبکہ پنجاب میں پولیو کے مرض کا شکار 5 مریض بچوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔
یہ بات مدِ نظر رہے کہ پولیو انتہائی موذی وائرس ہے، جو عام طور پر حفظان صحت کی غیرتسلی بخش صورتحال کے باعث منتقل ہوجاتا ہے، اس وائرس کا کوئی علاج نہیں، جس سے زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اور اسے صرف ویکسین کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔
مغرب میں پولیو کا خاتمہ ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن پاکستان میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جانے کی وجہ سے پولیو کا مرض ملک میں اب تک موجود ہے۔
پاکستان میں پولیو کیسز کی تشویشناک صورتحال پر صحت کے عالمی فورم پر پاکستان کے سیاسی مسائل کو موضوع بحث لاتے ہوئے بین الاقوامی مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے اپنی رپورٹ میں کہا تھاکہ ’ملک میں پولیو پروگرام اور انسداد پولیو ویکسین دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے‘۔
آئی ایم بی وہ ادارہ ہے جو عالمی سطح پر پولیو کا پھیلاؤ روکنے کے لیے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیتا ہے، جس کے مطابق پاکستان میں پولیو میں اضافے کے پسِ پردہ سیاسی نا اتفاقی ہے۔
اپنی تازہ رپورٹ میں آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ ’2018 کے اوائل میں پاکستان کا پولیو پروگرام پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے دہانے پر تھا‘۔
تاہم صرف ایک سال کے عرصے کے دوران ملک میں اس بیماری کی صورتحال نے پولیو کا پھیلاؤ روکنے والے عالمی پروگرام کے اندازوں کو پلٹ کر رکھ دیا۔
آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وبا کی صورتحال انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے، دنیا بھر میں سامنے آنے والے 80 فیصد پولیو کیسز پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں 90 فیصد روایتی بنیادی ذخائر سے باہر پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں پولیو پروگرام ملک کے لیے ایک مثال کے بجائے موجودہ بحران کی علامت کی صورت اختیار کرگیا اور یہی صوبہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کراچی میں پولیو کا پھیلاؤ ہر جگہ موجود ہے جبکہ پنجاب میں بھی ہر مقام پر انسداد پولیو پروگرام کی خرابی کے آثار موجود ہیں۔
آئی ایم بی کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ 8 برسوں میں پولیو سے معذوری کے 89 فیصد کیسز پشتو بولنے والے خاندانوں میں سامنے آئے جبکہ جی پی ای آئی کسی اہم پیش رفت کے موقع پر ان حیرت انگیز اعداد و شمار میں خاص دلچسپی نہیں لیتا۔
رپورٹ میں یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ ’اگر سیاسی رہنما متضاد بیانات دیں گے تو پاکستانی عوام کس طرح اس بات پر یقین کریں گے کہ انسداد پولیو پروگرام ان کے مفاد میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close