فارماسوٹیکل کمپنیوں نے حکم امتناع حاصل کرلیا

فارماسوٹیکل کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے ادویات کے کمی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیا
پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے دوران مذکورہ پیش رفت کے بارے میں قومی صحت خدمات کی ذیلی کمیٹی کے اراکین کو آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے کنوینر ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کی طرف سے نوٹس لینے اور ادویات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق ہدایت کے باوجود ادویات کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کی جاسکی؟
ڈریپ کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ 15 ملٹی نیشنلز سمیت ادویہ ساز کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے خلاف حکم امتناع حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکم امتناع کی وجہ سے کچھ ادویات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاسکی تاہم بعض کمپنیوں نے قیمتیں کم کردی ہیں۔
یاد رہے کہ 15 دوا ساز کمپنیوں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
واضح رہے کہ اپریل کے وسط میں دوائیوں کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد 23 اپریل کو وزیر اعظم نے 72 گھنٹوں میں قیمتوں میں کمی کی ہدایت کی تھی۔
16 مئی کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دعویٰ کیا تھا کہ کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دوا کی قیمتوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ 75 فیصد ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 889 دوائیوں کی قیمتوں پر غور کیا گیا ہے جس میں سے 464 دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور 395 کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور دیگر کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ان کے مطابق 464 دوائیں جن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا وہ کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں۔علاوہ ازیں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے تمام ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا۔
تاہم گزشتہ روز انکشاف ہوا کہ 15 دواساز کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے خلاف حکم امتناع حاصل کرلیا۔
اگرچہ ذیلی کمیٹی نے ڈریپ کو ہدایت کی تھی کہ وہ دوا ساز کمپنیوں کے نمائندوں کو طلب کریں لیکن کمپنی کے کسی نمائندے نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ذیلی کمیٹی کے اراکین نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے کمپنیوں کو تحریری ہدایات جاری کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close