اسلام آباد ہائیکورٹ جج ویڈیو سکینڈل کا فیصلہ کرنے میں مکمل آزاد ہے

سپریم کورٹ نے جج ویڈیو اسکینڈل کیس میں اپنا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئےنظر ثانی کےلیے دائر کی گئی سابق وزیراعظم نوازشریف کی درخواست نمٹا دی ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی طرف سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ جج ویڈیو اسکینڈل میں دیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہائی کورٹ میں اثر انداز ہو رہا ہے۔ درخواست کو نمٹاتے ہوئےچیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہائی کورٹ فیصلہ کرنے میں آزاد ہے، یہ پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی لکھ دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے 23 اگست 2019 کے فیصلے میں پیرا 9 اور11میں واضع طور پر لکھ دیا ہے۔ عدالت سے جو آپ مانگ رہے ہیں ہم پہلے ہی دے چکے ہیں، اگر چاہتے ہیں آپ کا حق متاثرنہ ہو توپہلی بات دوبارہ لکھ دیتےہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تبصرے شروع ہو گئے کہ ہائیکورٹ کے ہاتھ باندھ دیئے گئے، یہ بات تب ہوتی ہے جب فیصلہ پڑھے بغیر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ ویڈیو اسکینڈل پر اپنا فیصلہ کرنے میں مکمل آزاد ہے اور اپنا راستہ خود تلاش کرے، ججز کسی کے ساتھ نانصافی نہیں کرتے، جو فیصلہ بھی ہو گا میرٹ پر ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے حکم لکھ دیا تھا کہ ہم کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرتے۔ ہم نے آرڈر میں کہہ دیا تھا کہ ھائی کورٹ جانے، حکومت جانے اور ایف ائی اے جانے۔بینچ کے سربراہ نے مزید ریمارکس دئیے کہ ہم نے کسی کو کچھ نہیں کہا ہائی کورٹ فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ انھوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ فیصلہ میں پہلے بھی لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت کی گنجائش نہیں۔ قانون جانے اور اس کا کام۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنا طریقہ کار اپنائے۔
خیال رہے کہ جج ویڈیو اسکینڈل کیس میں سپریم کورٹ نے 23 اگست کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نواز شریف کے خلاف دوبارہ ٹرائل کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ خود کرے۔ سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ رد کرتے ہوئے لکھا کہ اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اور اس کا ہائیکورٹ میں زیرالتوا درخواست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ جج کے طرز عمل سے ٹرائل کے متاثر ہونے کا معاملہ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہے، سپریم کورٹ اس موقع پر مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتی۔
یاد رہےالعزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل 18 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہے ‘نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم کرنے کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی تھی . تاہم عدالت نواز شریف کی مرکزی اپیل سے قبل جج ویڈیو کیس کے تناظر میں فیصلہ کرے گی‘جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ درخواست کی سماعت کرے گا‘جج ویڈیو کیس کے مرکزی کردار ناصربٹ نے نواز شریف کی اپیل میں فریق بننے کی درخواست کر رکھی ہے.نواز شریف نے ویڈیو کا فرانزک کرنے والے برطانوی ماہر سمیت 5 افراد کو عدالتی گواہ بنانے کی استدعا کی ہے‘العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل 18 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close