حج درخواستوں کی رقم پر سود لینے پر حکومت تنقید کی زد میں

عوامی حلقوں نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے حجاج کرام کی جمع کروائی گئی رقوم پر بینکوں سے سود لینے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کا ایک غیر اسلامی فعل قرار دیا ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے تسلیم کیا تھا کہ پچھلے برس 3لاکھ 74 ہزار 8 سو 57 پاکستانیوں نے حج درخواستیں جمع کروائیں تھیں جس پر حکومت نے ایک سو 6 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد منافع بطور سود کمایا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حجاج کی جانب سے جمع کروائی گئی رقم پر سال 2018 میں 21 کروڑ روپے سے زائد سود حاصل کیا ہوا اور گزشتہ 5 برس میں ایک ارب 17 کروڑ روپے سود حاصل ہوا۔ انہوں نے مذید بتایا کہ 2017 میں 3 لاکھ 38 ہزار 6 سو 96 افراد نے حج درخواستیں جمع کروائیں تھیں جن سے 95 ارب 96 کروڑ 90 لاکھ سے زائد رقم جمع ہوئی تھی اور اس رقم پر بینکوں سے 13 کروڑ 80 لاکھ 99 ہزار 8 سو 48 روپے سود حاصل کیا گیا تھا۔
وزیر مذہبی امور نے یہ بھی بتایا کہ 2016 میں 2 لاکھ 80 ہزار 6 سو 17 افراد نے حج کی درخواستیں جمع کروائیں جن سے 76 ارب 86 کروڑ سے زائد رقم جمع ہوئی اور اس پر 26 کروڑ 5 لاکھ 85 ہزار 2 سو 72 روپے سود حاصل کیا گیا۔
سال 2015 میں 2 لاکھ 69 ہزار 3 سو 28 افراد نے حج کے لیے درخواستیں جمع کروائیں جس پر 72 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہوئی اور اس پر 34 کروڑ 39 لاکھ 12 ہزار 4 سو 22 روپے سود حاصل کی گیا۔
سال 2014 میں ایک لاکھ 29 ہزار 56 افراد نے درخواستیں جمع کروائیں جس سے 35 ارب 35 کروڑ روپے جمع ہوئے تھے اور اس پر 22 کروڑ 11 لاکھ 83 ہزار 2 سو 71 روپے سود حاصل کیا گیا تھا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حج قرعہ اندازی کے بعد ناکام ہونے والے درخواست گزاروں کو ان کی رقم واپس کی جاتی ہے۔
تحریری جواب میں کہا گیا کہ سود سے حاصل ہونے والی رقم حجاج کرام کی ویکسین، تربیت، ادویات اور اس حوالے سے پرںٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے میڈیا مہم پر خرچ کی جاتی ہے۔ مزید بتایا گیا حجاج سے حاصل کی جانے والی رقم ان کی رہائش کے اخراجات، حج کے لازمی واجبات،اضافی سروس چارجز، آب زم زم اور کھانے کی رقم پر خرج کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور کے مطابق حجاج کی ٹکٹ کی رقم ایئرلائنز کو ادا کی جاتی ہے۔
تاہم عوامی حلقوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے حجاج کرام کی رقوم پر حکومت کے سود اکٹھا کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close