روپیہ چڑھ گیا، ڈالر کے نرخ 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئے

پچھلے چھ مہینوں میں پہلی مرتبہ پاکستانیوں نے ڈالر خریدنے کی بجائے بیچنا شروع کر دیا ہے جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں اضافہ اور ڈالر کی قدر میں کمی ہے۔ پاکستان میں ڈالر کی قدر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی اور روپے کے مقابلے میں ایک ڈالر کی قدر 155 روپے سے نیچے آگئی ہے۔ انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر امریکی ڈالر کی لین دین 10 پیسے کم ہوکر 154 روپے 96 پیسے پر بند ہوئی۔
امریکی کرنسی حالیہ ہفتوں میں مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستان کرنسی کی قدر میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری طرف ڈالر کی قیمت میں تقریباً 9 روپے کی کمی واقع ہو گئی ہے جوان لوگوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے جو ڈالر اکٹھے کرکے بیٹھے ہوئے تھے لہذا اب نقصان سے بچنے کے لیے ایسے لوگوں نے ڈالر بیچنا شروع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہاں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی ہے، وہیں اماراتی درہم کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ہے۔گزشتہ 6 ماہ کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے اماراتی درہم کی قیمت میں 2 روپے سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ جون 2019ء سے اب تک انٹر بینک میں ڈالر 5 فیصد سستا ہوا جس سے قرضوں کے بوجھ میں 860 ارب روپے کمی ہو گئی۔ گزشتہ ہفتے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کم ہو کر154.70روپے تک کم ہوگئی ہے، جو گزشتہ 5ماہ کے دوران ڈالر کی سب سے کم قیمت ہے۔ اسوقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 154.70روپے تک آ گئی ہے جب کہ 26 جون 2019 کو ڈالر کی قیمت 164روپے تھی۔ اس طرح پانچ ماہ میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9 ماہ کی بلند ترین سطح یعنی 17 ارب 29 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت مرکزی بینک کے پاس 10 ارب 41 کروڑ جب کہ کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 88 کروڑ ڈالرز موجود ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم بھی اسٹیٹ بینک کو موصول ہوئی ہے جو پاکستانی کرنسی کی مالیت میں اضافے کا سبب ہوسکتی ہے۔ان حالات میں ڈالر کا ذخیرہ کرنے والوں نے اس سے جان چھڑوانا شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close