اورنج لائن ٹرین:افتتاح تو ہو گیا لیکن چلے گی نہیں

بالآخر 10 دسمبر کے روز سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں شروع کئے جانے والے اورنج لائن ٹرین منصوبے کا افتتاح تو کر دیا گیا لیکن یہ پروجیکٹ ابھی نامکمل ہے اور لاہور کے شہریوں کو اس ٹرین کی برکات سی فیضیاب ہونے کے لئے ابھی تین مہینے اور انتظار کرنا پڑے گا۔
اورنج ٹرین لائن منصوبے کا افتتاح ابھی آزمائشی بنیادوں پر کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے حکومت پنجاب کو دی جانے والی جنوری 2020 کی ڈیڈلائن تھی۔ یاد رہے کہ حکومت پر یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ اورنج ٹرین کو صرف اس لیے شروع نہیں کیا جا رہا کہ اس پراجیکٹ کا افتتاح سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے کیا تھا۔ لہذا سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ جنوری 2020 سے پہلے اس ٹرین کو لانچ کر دیا جائے۔
چار سال سے زائد عرصے میں پاکستان اور چائنہ کے باہمی اشتراک سے زیر تکمیل اس مہنگے ترین منصوبے پر مجموعی طور پر 264 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے جبکہ اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کا ابتدائی تخمینہ 164 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ یعنی اس منصوبے پر اصل لاگت سے سو ارب روپے زیادہ خرچ ہوں گے جس کی بنیادی وجہ منصوبے کی تکمیل میں حکومت بدل جانے کی وجہ سے تاخیر تھی۔ مسلم لیگ ن کے دور میں شروع کئے جانے والے اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کا آغاز مئی 2014 میں کیا گیا، ایگزم بینک آف چائنہ نے بینک آف پنجاب کو 1.62 بلین ڈالر دینے کا معاہدہ کیا جس کے بعد ٹرین پر تعمیراتی کام کے منصوبے کو چار پیکجز میں تقسیم کیا گیا۔ ڈیرہ گجراں سے چوبرجی تک پیکج ون کیلئے 21 ارب 49 کروڑ کا کنٹریکٹ ایوارڈ کیا گیا جبکہ منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز دو اکتوبر 2015 کو ہوا۔ پی سی ون کے مطابق 164 ارب روپے کی لاگت سے ٹرین منصوبہ 27 ماہ میں مکمل ہونا تھا مگر 49 ماہ گزرنے کے باوجود تعمیراتی کام ابھی باقی ہے جبکہ پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہونے سمیت مختلف وجوہات کی بناء پر منصوبے کا لاگت میں 100 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے اور منصوبہ ابھی بھی نا مکمل ہے۔
اکتوبر 2016 میں بیکج ٹو کے تحت علی ٹاون سے چوبرجی تک کام شروع کیا گیا اس دوران منصوبے کے راستے میں آنے والی تاریخی عمارتوں پرسول سوسائٹی نے عدالت میں درخواستیں دائر کیں اور 19 اگست 2016 کو لاہور ہائیکورٹ نے اورنج لائن ٹریک کے ساتھ واقع 11 تاریخی عمارتوں سے متعلق حکم امتناعی جاری کر دیا اور لاہور ہائیکورٹ نے 11 تاریخی مقامات سے دو سو فٹ تک کام کرنے سے روک دیا تاہم آٹھ دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ نے تاریخی مقامات پر کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔ بعد ازاں 5 اگست 2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کو جنوری 2020 تک مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےحکم دیا تھا کہ میٹرو ٹرین منصوبہ جنوری 2020 تک مکمل کیا جائے،سپریم کورٹ اورنج لائن منصوبے کی نگرانی خود کرے گی۔۔
چنانچہ وسیم اکرم پلس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ماموں بنانے کے لیے نامکمل اورنج ٹرین منصوبے کا افتتاح 10 دسمبر کو کرنے کا اعلان کیا تا کہ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ جنوری 2020 کی ڈیڈ لائن سے پہلے ٹرین کو چلتا دکھایا جا سکے لیکن متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اورنج ٹرین منصوبے کے تعمیراتی ڈھانچے، بجلی کے نظام اور دیگر حصوں کا سیفٹی آڈٹ ہونے سے پہلے اس کا نمائشی افتتاح بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close