مہوش حیات کریلے کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہیں؟

امریکہ کے ایک میوزیم میں ایک عام کیلے کی کروڑوں روپے میں فروخت کی خبر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کیا بنی پاکستانی اداکارہ مہوش حیات بھی میدان میں آگئیں اور اعلان کر دیا کہ وہ بھی آرٹسٹ بن کر دیوار سے کریلا چپکائیں گیں کیونکہ اگر دیوار سے چپکا ہوا ایک کیلا کروڑوں میں بک سکتا ہے تو سوچیں گے کریلا کتنے میں بکے گا۔اداکارہ مہوش حیات نے اپنی ایک ٹوئٹ میں ایک کیلے کے ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر میں فروخت ہونے والے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دراصل اس معاملے کے بعد وہ بھی آرٹسٹ بننے کا سوچ رہی ہیں۔
مہوش حیات نے مختصر ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ خود بھی آرٹ سے محبت کرتی ہیں لیکن آج کل جن چیزوں کو آرٹ سمجھا جا رہا ہے وہ ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی میوزیم میں کیلے کی ریکارڈ قیمت میں فروخت کے بعد وہ آرٹسٹ بننے کا سوچ رہی ہیں اور وہ ٹیپ کی مدد سے دیوار پر کیلے کو نہیں بلکہ ’کریلے‘ کو لٹکائیں گی۔ مہوش حیات کا کہنا تھا کہ جب ٹیپ کی مدد سے دیوار پر چپکایا گیا کیلا ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر میں فروخت ہو سکتا ہے تو سوچیں کریلا کتنے میں فروخت ہوگا اور یقینا وہ اس سے اچھی قیمت میں فروخت ہوگا۔
یاد رہے دو روز قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک آرٹ میوزیم میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے کیلے کو ایک کامیڈین آرٹسٹ کھا گئے تھے اور اس کیلے کی ممکنہ قیمت ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک بتائی جا رہی تھی۔


منتظمین کو امید تھی کہ آرٹ میوزیم میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا کیلا ڈیڑھ لاکھ ڈالر یعنی پاکستانی 2 کروڑ 30 لاکھ روپے تک فروخت ہو جائے گا، کیوں کہ مذکورہ کیلے سے قبل اسی میوزیم میں 2 کیلے تقریبا پاکستانی ساڑھے 4 کروڑ روپے میں فروخت ہو چکے تھے۔ آرٹ میوزیم میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے تینوں کیلے اٹلی نژاد امریکی آرٹسٹ موریزیو کیٹیلن کے تھے جنہوں نے کئی سال تک سوچنے کے بعد اسی طرح کیلوں کو میوزیم میں پیش کیا۔
اٹالین نژاد آرٹسٹ نے پھل فروش سے تین تازہ کیلے خرید کر انہیں میوزیم کی دیوار پر ٹیپ سے چپکا دیا تھا اور ان کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک رکھی تھی اور ان کے دو کیلے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئے تھے۔ تاہم تیسرے کیلے کو فروخت ہونے سے قبل ہی امریکی کامیڈین ڈیوڈ ڈاؤٹا نے آرٹ میوزیم پہنچ کر کھالیا تھا۔ انہوں نے کیلے کو کھانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی جاری کی تھی اور بعد ازاں انہوں نے اس حرکت پر معافی مانگنے سے بھی انکار کردیا تھا۔ کیلے کو کھانے والے کامیڈین ڈیوڈ ڈاؤٹا کا کہنا تھا کہ دراصل انہوں نے کیلے کو نہیں بلکہ اٹالین نژاد آرٹسٹ کے خیال کو کھایا ہے جو انتہائی لذیذ تھا۔ کامیڈین کے مطابق جس طرح اٹالین نژاد نے کئی ماہ تک خیالوں میں رہ کر عظیم خیال کو تخلیق کرکے ٹیپ کی مدد سے کیلے کو دیوار پر چپکا کر آرٹ پیش کیا اسی طرح انہوں نے بھی آرٹ میوزیم پہنچ کر اپنا فن استعمال کرتے ہوئے کیلے کو کھایا، اس لیے انہیں اپنے عمل پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close