امریکا، افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے

ایک امریکی اخبار نے خفیہ سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ‘امریکا، افغانستان میں واضح اہداف نہ ہونے کی وجہ س سے جنگ ہار رہا ہے۔ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ‘کچھ امریکی عہدے دار جنگ کے ذریعے افغانستان کو جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں جبکہ بعض چاہتے ہیں کہ افغانستان کی ثقافت کو تبدیل کرکے خواتین کے حقوق کو بلند کیا جائے۔
اخبار کے مطابق ‘کچھ امریکی عہدیدار چاہتے ہیں کہ پاکستان، بھارت، ایران اور روس کے مابین علاقائی طاقت کے توازن کو نئی شکل دی جائے۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ واشنگٹن پوسٹ نے مذکورہ رپورٹ کی تحقیقات میں کئی ماہ کا وقت گزارا جو 2 ہزار غیر مطبوعہ صفحات پر مشتمل ہے، جس میں سابق امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ سمیت 600 انٹرویوز اور ہزاروں یادداشتوں پر مبنی بیانات ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق طویل قانونی چارہ جوئی کے ذریعے حاصل کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے یہ معلوم ہوا کہ اعلیٰ امریکی حکام نے تقریباً 20 سال کی کوشش میں ناکامی کے امکان کو چھپانے کے لیے افغانستان کی جنگ کے بارے میں امریکی عوام کو گمراہ کیا۔دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی فوجی کمانڈرز یہ بیان کرنے میں جدوجہد کرتے رہے کہ وہ وہ کس سے لڑ رہے ہیں اور کیوں لڑ رہے ہیں۔
جوابات دیے گئے سوالات میں یہ شامل تھا “کیا القاعدہ دشمن تھی یا طالبان؟ کیا پاکستان دوست تھا یا مخالف؟ دولت اسلامیہ اور غیر ملکی جہادیوں کی صفوں کا کیا ہوگا، سی آئی اے کے تنخواہ پر جنگجووں کو چھوڑ دو؟’رمزفیلڈ کے سویلین مشیر مارن اسٹرمیکی کی 40 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بدعنوانی اور نااہلی کی بنیادی وجوہات یا افغان حکومت کے خلاف ‘زبردست عوامی عدم اطمینان’ کی نشاندہی کی گئی۔یہ دستاویزات طویل حکومتی رپورٹ ‘سبق سیکھا’ کے عنوان سے ایک حصہ تھی، جس میں 600 سے زائد افراد کے انٹرویو کے ذریعے جنگ کی کوششوں کی ‘بنیادی ناکامیوں’ کی جانچ کی گئی۔
انٹرویوز میں امریکی عہدے داروں نے یہ تسلیم کیا کہ ‘ان کی جنگ لڑنے کی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام رہی اور یہ کہ افغانستان کو ایک جدید قوم میں ڈھالنے کی کوشش میں واشنگٹن نے بہت زیادہ رقم ضائع کی، جو تقریبا ایک کھرب ڈالر بنتی ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے رپوٹ کیا گیا ‘انٹرویو کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں نے جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کیا ، رپورٹ کے مطابق ‘ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس اور کابل کے فوجی ہیڈکوارٹرز میں یہ عام بات تھی کہ اعداد و شمار کو مسخ کردیا جائے۔
سابق صدر مملکت جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما کی سربراہی میں وائٹ ہاؤس کی افغان جنگ زار کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایک 3 اسٹار آرمی جنرل ڈگلس لوٹ نے انٹرویو دینے والوں کو بتایا کہ ‘ہم افغانستان کی بنیادی تفہیم سے ناواقف ہیں، ہمیں نہیں معلوم تھا ہم کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ‘ہم یہاں کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم جو کچھ کر رہے تھے اس کا دھندلا تصور تک نہیں تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان میں اپنی 17 برس جنگ کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلسل ناقص اعداد و شمار پیش کررہی ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’افغان جنگ مہنگی ترین جنگ ثابت ہورہی ہے، موجودہ لگنے والی رقم اس مارشل پلان سے زیادہ ہے جو جنگ عظیم دوئم کے بعد یورپ کو ازسرنو تعمیر کرنے کے لیے درکار تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close