امریکہ نے ایران کو خطرناک دھمکی لگادی

بغداد میں امریکی سفارت خانے کے باہر مشتعل مظاہرین کا احتجاج اور سفارت خانے میں گھس کر توڑ پھوڑ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ان واقعات کا ذمے دار ٹھہرایا دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔


واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی فورسز نے فضائی کارروائی میں مقامی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا جس میں کئی جنگجوؤں اور زخمی ہوئے۔ان حملوں کے خلاف گزشتہ روز عراقی دارالحکومت میں سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ کے باہر احتجاج شروع کیا اور اس کے بعد ہجوم نے مرکزی دورازے کو توڑنے کے بعد استقبالیے کو آگ لگادی۔ ہجوم نے امریکا کے خلاف نعرے بازی کی اور پانی کی بوتلیں پھینک کر سفارت خانے کے باہر لگے کیمرے بھی توڑ ڈالے تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں ایک تنظیم حشد الشابی کے پرچم بھی لہرائے گئے اور اس تنظیم کا تعلق کتائب حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے تاہم سفارتخانے پر تعینات عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم کو قابو کرنے کی کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی۔
امریکی سفارت خانے پر حملے کے ردعمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ہماری املاک میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار مکمل طور پر ایران ہے اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ تنبیہ نہیں بلکہ دھمکی ہے۔ ساتھی امریکی صدر نے نئے سال کی مبارکباد بھی دی۔
امریکی صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ عراق میں امریکی سفارت خانہ محفوظ ہے اور تھا، ہمارے کئی فوجی انتہائی خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ فوری طور پر عراق پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ نے فوری فوجیوں کی تعیناتی کی درخواست منظور کرنے پر عراقی صدر اور وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close