عمر کم کرنا اور بڑھاپے سے جوانی کی طرف لوٹنا ممکن ہے

انسان کی پیدائش، لڑکپن، جوانی، ادھیڑعمری اور بڑھاپے کے ابدی دائرے کو ایک ناگزیر حقیقت سمجھا جاتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ تاہم اب نئی تحقیقات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق نہ صرف عمر بڑھنے کے عمل کو سست رفتار بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس عمل کو یکسر الٹا بھی کر دیا جا سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ہر شخص کے پاس یہ انتخاب ہو گا کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہے یا کسقدر عمر جوانی کی گزار سکتا ہے۔ امریکہ کی چند بہترین طبی اداروں کے سائنسدان اور محققین نے دریافت کیا ہے کہ عمر بڑھنے کا تعلق جینیٹک کوڈ سے ہے اور اس کوڈ میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس تحقیق کا یہ مطلب بھی ہے کہ کوڈ میں تبدیلی کر کے ہم دنیا میں بیماریوں کی بڑی وجوہات کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
ہارورڈ اسکول کے جینیٹکس کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ سنکلیئر کا کہنا ہے کہ عمر کا بڑھنا ایک بیماری ہے اور دیگر بیماریوں کی طرح اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ اس حوالے سے ایک بڑا نام ڈاکٹر نیر بریزیلیا کا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک نیا جین دریافت ہوا ہے جسے متحرک کرنے سے عمر کا بڑھنا روکا جا سکتا ہے۔ جینیٹک ری پروگرامنگ کے حالیہ تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں انسان نہ صرف خود کو نوجوان محسوس کرنے کے قابل ہو سکتا ہے بلکہ وہ جسمانی طور پر بھی نوجوانی کی طرف لوٹایا جا سکتا ہے۔ اب تک مختلف ممالیہ پر تجربات کیے جاتے رہے ہیں البتہ اب انسانوں پر اس تکنیک کے اثرات پر تحقیق شروع ہو چکی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عمر واپس لوٹانے کا تعلق صرف جوڑوں کے درد اور چہرے کی جھریاں دور کرنے سے نہیں بلکہ دل کے دورے، کینسر اور یادداشت کھو دینے والی بڑی بیماریوں کے خاتمے سے بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close