فوزیہ سعید پی این سی اے کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی نئی ڈائریکٹر جنرل فوزیہ سعید ادارے کی سینتالیس سالہ تاریک میں پہلی خاتون سربراہ ہیں۔ اس سے قبل 2015 سے 2018 تک وہ لوک ورثہ کی سربراہ بھی رہی ہیں۔
ڈاکٹر فوزیہ سے قبل سیدجمال شاہ پی این سی اے کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔
فوزیہ سعید کا کہنا ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا سب سے پہلا قدم فروری میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے مادری زبانوں کا ادبی میلہ منعقد کرنا ہے، جس کی منظوری انہوں نے دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثقافت کو بچانے کی سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری والدین کی بنتی ہے۔ اس کے بعد معاشرہ اور پھر ہمارے جیسے اداروں کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اپنی ثقافت سے متعلق معلومات بچوں کومنتقل کریں، بچوں کو کسی مقامی آرٹسٹ یا موسیقار کا بتائیں اور اسے ہیرو کے طور پر پیش کریں۔
ڈاکٹر فوزیہ سعید گزشتہ تین عشروں سے ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ وہ صنفی ماہر ہونے کے علاوہ ٹی وی مبصر، ٹرینر، ڈویلپمنٹ منیجر اور لوک کلچر پروموٹر ہیں۔ انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔
فوزیہ سعید لاہور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے ہوم اکنامکس میں گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے بی ایس کیا۔ انہیں قائد اعظم اوورسیز ایجوکیشنل ایوارڈ ملا، جس کی وجہ سے انہوں نے آٹھ سال تک امریکہ میں یونیورسٹی آف مینی سوٹا میں تعلیم حاصل کی اور ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔
ڈاکٹر فوزیہ پاکستان میں مشہور ادارے مہرگڑھ کے علاوہ اقوام متحدہ اور لوک ورثہ کے ساتھ بھی منسلک رہیں۔ وہ بچوں اور خواتین کے حقوق کےلیے سرگرم رہتی ہیں۔
پی این سی اے میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے ڈاکٹر فوزیہ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ساتھ صنفی مشیر (جینڈر ایڈوائزر) کے طور پر منسلک تھیں۔
ان کی پہلی کتاب ’ٹیبو‘ پاکستان میں جسم فروشی پر ہے۔ یہ لاہور کے مشہور شاہی محلے یا ہیرا منڈی کو دریافت کرنے کا سفر ہے جو شاہی محلے میں رہنے والی طوائفوں، موسیقاروں، فنکاروں، مینیجروں اور گاہکوں کی کہانیاں بیان کرتے ہوئے جسم فروشی کے کاروبار، موسیقی اور فن کے صدیوں پرانے رشتے کی زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتا ہے۔
فوزیہ سعید کی دوسری کتاب ’لیونگ ود شارکس‘ اقوام متحدہ میں نوکری کے دوران ان کے اور ساتھی ملازموں کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے تجربات کا ذکر اور تجزیہ ہے۔
دس سال قبل پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کو دفاتر میں ہراسانی سے بچانے کا قانون ’پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس‘ ایکٹ پاس کروانے میں بھی ڈاکٹر فوزیہ سعید کا اہم کردار رہا۔
پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کو 1973 میں پاکستان میں آرٹس کی ترقی کےلیے قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد فنون کی نشونما کےلیے موزوں ماحول پیدا کرکے ساتھ ساتھ ایک مضبوط آرٹس ماحولیاتی نظام بنانا ہے، جہاں فن ہر کسی کےلیے برابر طور پر قابل رسائی ہو اور فنکاروں اور آرٹس گروپس کو مالی اعانت اور وسائل فراہم کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close