پولیوکےمزید6 کیسزکی خیبرپختونخواہ میں تصدیق

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں 6 پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں سال 2019 کے پولیو کیسز کی تعداد 140 ہوگئے۔تاہم صرف خیبرپختونخوا میں سال 2019 کے عرصے میں پولیو کے مجموعی طور پر 97 کیسز ہوگئے۔
پولیو کے نئے کیس خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع خیبر، مہمند، باجوڑ، پشاور، تورغر اور لکی مروت میں سامنے آئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر میں 18 ماہ کی بچی، ضلع مہمند میں 10 ماہ کے بچے، ضلع باجوڑ میں 7 ماہ کی بچی، ضلع پشاور میں 10 ماہ کی بچی، تورغر میں 12 ماہ کا بچہ اور لکی مروت میں 18 ماہ کی بچی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوگئی۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ ضلع پشاوراور باجوڑ میں متاثرہ بچوں کو پولیو کی ویکسین دی گئی تھی تاہم دیگراضلاع میں متاثرین بچوں کو ویکسین نہیں دی گئی۔
گزشتہ روز پولیو کا نیا کیس صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کی تحصیل میر پور ساکرو کی یونین کونسل گجو سے رپورٹ ہوا۔قومی ادارہ برائے صحت کے عہدیدار نے بتایا تھا کہ 34 ماہ کا بچہ بائیں ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہوگیا۔ واضح رہے کہ 4 جنوری کو 5 پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ اس سے 3 روز قبل 2 جنوری کو مزید 6 پولیو کیسز سامنے آئے تھے۔ صحت حکام کے مطابق ملک میں سال 2020 کی پہلی 3 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز 13 جنوری سے کیا جائے گا۔
قومی ادارہ صحت کے عہدیدار کے مطابق ’سال 2020 کا آغاز ہونے کے باوجود مزید ایک ماہ تک سامنے آنے والے کیسز 2019 کی فہرست میں شامل کیے جاسکتے ہیں کیونکہ کسی سال میں پولیو کیس کا اندراج وائرس کی تصدیق ہونے کی تاریخ کے بجائے ٹیسٹ کے لیے نمونے لینے کے تاریخ سے ہوتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے متحرک ہونے کے لیے کم از کم 3 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا نمونے حاصل کرنے کے 3 ہفتوں بعد پولیو کیس کی تصدیق ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ’یہ عین ممکن ہے کہ آئندہ کچھ ہفتوں تک ہم 2019 کے مزید پولیو کیسز کی تصدیق کریں‘۔قبل ازیں 30 دسمبر کو وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخر کار اپنی ‘درست سمت پر گامزن’ ہے۔انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اور ملک بھر میں 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ 39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close