کریلےمیں کینسرکوروکنے والے طاقت وراجزا کی موجودگی ثابت

کریلے کےاجزاکوکشید کرکے چوہوں پرآزمایا گیا تو ان میں سرطان کا پھیلاؤ سست پڑااوررسولیوں کی افزائش بہت کم ہوگئی۔
کریلا کئی سوسال قبل چین سے پاکستان اوربھارت پہنچا اوراب بھی اسے بطورسبزی یا گوشت میں ملا کر کھایا جاتا ہے، کریلے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس میں سرطان کوروکنےوالے طاقتوراجزا موجود ہیں۔
آیو ویدرک اورطبِ یونانی میں کریلے کو ذیابیطس سمیت کئی ادویات کےعلاج میں برسوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔ اب میسوری کی سینٹ لوئی یونیورسٹی کی پروفیسررتنارےاوران کے ساتھیوں نے کریلے کے مفردات (ایکسٹریکٹس) کشید کرکے انہیں کینسرکےمریض چوہوں پرآزمایا توان میں سرطان کا پھیلاؤ سست پڑااوررسولیوں کی افزائش بھی بہت کم ہوگئی۔
اس طرح کڑوے کریلے کا ایک طبی فائدہ سامنےآیا ہے جوکینسرکےعلاج میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے بعد پروفیسررتنا نےچھاتی،پروسٹیٹ، سراورگردن کےکینسرکے خلیات حاصل کیے اوران میں کریلے کے اجزاشامل کیے توسرطانی خلیات کی تقسیم بند ہوگئی اورسرطان کا پھیلاؤ بہت حد تک رک گیا۔
چوہوں پرکیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ کریلا زبان کے کینسرکے معالجےمیں بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے،اگراس تحقیق اورکریلے کے اجزا کی پوری کارکردگی سمجھ میں آجاتی ہے تو اس سے بہترعلاج کی راہ ہموار ہوگی۔
ہم جانتے ہیں کہ سادہ شکراور چکنائی کے سالمات کینسر کے مقام پرجا کرسرطان کومزید بڑھاتے ہیں۔ کریلے کےاجزا ان دونوں کا راستہ روکتے ہیں اوراس طرح سرطانی خلیات کم ہوجاتے ہیں اور بعض خلیات کومرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
پروفیسررتنا کے مطابق جب کریلےکومختلف جانوروں پرآزمایا گیا توسرطانی رسولیوں کی جسامت میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اب اگلے مرحلے میں کریلے کے یہ اجزا انسانوں پرآزمائے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close