’ہڑپہ‘ تہذ یب کتنی پرانی ۔۔۔پانچ یا نو ہزار سال ؟

ہڑپہ کی تہذیب پاکستان میں وادیٔ سندھ کے شہروں ہڑپہ، موہنجو دڑو اور کوٹ دیجی سے لے کر انڈیا میں گھگر ہاکڑا دریا کی وادی میں واقع بِھڑانا، کالی بنگن اور حصار تک پھیلی ہوئی تھی۔ کہا جاتاہے کہ ہڑپہ کی تہذیب پانچ ہزار سال نہیں بلکہ نو ہزار سال پرانی ہے اور یہ کہ اس کے زوال کی براہِ راست وجہ موسم کی تبدیلی نہیں تھی۔ہڑپہ پاکستان کا ایک قدیم شہر ہے، جس کے کھنڈرات پنجاب میں ساہیوال سے35کلومیٹر مغرب کی جانب چیچہ وطنی شہر سے 15 کلو میٹر پہلے کھدائی کے دوران ملے۔ 1200سال قبل مسیح سے بھی پہلے لکھی جانے والی ہندوئوں کی کتاب رگ وید سے اس شہر کی تاریخ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ہڑپہ کی تہذیب اس زمانے کی انتہائی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے مزین تھی اور اس کے باسی زراعت، شہری منصوبہ بندی، تجارت، برتن سازی اور مجسمہ سازی کے ماہر تھے۔ اس کے علاوہ وہ تجارت کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے میسوپوٹیمیا اور وسطی ایشیا سے منسلک تھے۔آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل اس تہذیب کا خاتمہ ہو گیا، شہر اجڑ گئے، تحریر کے نمونے غائب ہو گئے، اور زراعت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ یہ تمام علاقے مون سون کے موسمی نظام کے تحت آتے ہیں لیکن آج کل یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ بارشوں میں کمی، اس تہذیب کے یک لخت انہدام کا مؤجب بنی۔
1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپا کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے،جس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل کی دلچسپی پر کھدائی کا کام شروع ہوا۔ 1931ء میں فنڈ کی کمی کی وجہ سے کام روک دیا گیا اور بعد میں بھی کھدائی کا کام بھر پور طریقہ سے نہیں ہو سکا۔ قدیم ہڑپہ کے مقام سے موجودہ دریائے راوی تقریباً چھ میل دور ہے لیکن جب یہ شہر آباد تھا تو راوی اس کے قریب بہتا تھا۔ اسی لیے ہڑپہ کے قلعے کے قدیم دور میں اس کے ساتھ کچی اینٹوں اور مٹی سے ایک بڑا حفاظتی بند بنایا گیا تھا۔ جب کبھی راوی میں سیلاب آیا کرتا تو یہ بند قلعے کی حفاظت کرتا تھا۔
ہڑپہ میں دریافت شدہ قلعہ جنوب مغرب میں ہے جبکہ نچلا شہر مشرق اور جنوب مشرق میں ہے۔ اندر کی عمارتیں اس وقت زمین سے بیس تا پچیس اونچے چبوترے کی طرح بنائی گئی تھیں۔ چبوترا مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا اور اس کے ارد گرد نہایت مضبوط بھاری حفاظتی پشتے بنائے گئےتھے۔اس پشتے میں ایک مختصر سی جگہ کھودی گئی ہے، جس کے نیچے برتنوں کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں۔ان برتنوں پر سرخ رنگ کیا ہوا تھا۔ پھر اس پر سیاہ رنگ کی نقاشی کی گئی ہے۔ اس کے بعد دوسرے دور میں قلعے کی ایک عظیم فصیل بنی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ایک حفاظتی پشتہ بھی بنایا گیا ہے جو اینٹ، روڑی اور مٹی سے بھرا گیا ہے۔ یہ پشتہ بنیادوں کے قریب 35 فٹ چوڑا ہے اور اوپر چڑھتے ہوئے پتلا ہوجاتا ہے۔ اصل فصیل اندر اور باہر سے پختہ اینٹوں سے بنی ہے، بیچ میں کچی اینٹوں سے بھرائی کی گئی ہے۔ اس دیوار کی کل موٹائی4فٹ اور اونچائی 35 فٹ ہے۔ قلعے کی فصیل میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر حفاظتی برج بنے ہوئے ہیں، جو فصیل سے اونچے ہیں۔ قلعے کا اصل پھاٹک شمالی جانب تھاجبکہ ایک چور دروازہ مغربی جانب تھا۔ جس کے آگے ایک حفاظتی برج تھا۔ قلعے کی تعمیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی بار یہ اتنی عمدگی سے نہیں تعمیر کیا گیا بلکہ اس کی تعمیر کے بھی کم از کم تین مراحل ہیں۔ پہلی بار قلعہ کوپکی اینٹوں کے ٹکڑوں سے بنایا گیا تھا، اس پر کسی حملے کے اثرات کا پتہ نہیں چلتا، بلکہ صرف موسمی اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔ دوسری تعمیر پختہ سالم اینٹوں سے کی گئی۔ اس مرتبہ فن تعمیر پہلے سے بدرجہ بہتر تھی۔ تیسری تعمیر میں فصیل کے ارد گرد بھاری بھرکم پشتے لگائے گئے، جن سے اس عمارت نے واقعی ایک زبردست قلعہ کا رُوپ دھار لیا
قلعے کے شمالی جانب ایک بیس فٹ اونچی اور300گز وسیع ڈھیری کی کھدائی کی گئی ہے۔ اس کے نیچے سے اہم عمارتیں برآمد ہوئیں۔ قلعہ کے قریب فوجی بیرکوں کے انداز کی عمارتوں کی دو قطاریں بنی ہوئی ہیں، ایک قطار میں سات اور دوسری میں آٹھ گھر ہیں۔ ہر گھر کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں گلیاں ہیں۔ کہیں بھی دو گھر کی دیواریں ایک ساتھ نہیں ہیں۔ ہر گھر کا سائز 24X52 فٹ ہے اور اس میں صرف ایک کمرہ بنا ہوا تھا جبکہ ہر گلی تین سے چار فٹ چوڑی تھی۔ ان بیرک نما مکانوں کو غلاموں کے گھر سمجھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close