آتش فشاں کے دامن میں ہونے والی ’دھواں دھار‘ شادی

افلپائن کے ایک جوڑے کے شادی کے لیے فلپائن کے تال نامی آتش فشاں کے سامنے فوٹو شوٹ کروا کر نئی تاریخ رقم کر ڈالی۔
شادی کا موقع ایسا ہوتا ہے کہ اس کے لیے لوگ فوٹو شوٹ پر خاص توجہ دیتے ہیں اور مہنگے ترین ملبوسات، نفیس ترین میک اپ اور بیش قیمت زیورات کی مدد سے اس لمحے کو مقید کرنے میں حد سے گزر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بعض لوگ ان لمحات کو یادگار بنانے کی غرض عروسی فوٹو شوٹ کے لیے عجیب و غریب مقامات کا انتخاب کرتے ہیں، کوئی کسی جزیرے پر چلا جاتا تو کوئی کسی اونچے پہاڑ کا رخ کرتا ہے۔ لیکن فلپائن کے چینو اور کیٹ ووفلور نے ان سب کو مات دے دی ہے۔ امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک جوڑے نے راکھ اور دھواں اگلتے ہوئے آتش فشاں کے سامنے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید کر دیا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تال نامی آتش فشاں کئی دن سے فعال ہے اور اس سے بھاری مقدار میں دھواں نکل رہا ہے۔ فلپائن کے زلزلے کے ادارے نے کہا ہے کہ راکھ کے بادل 12 سے 15 کلومیٹر تک فضا میں بلند ہو رہے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ یہ پہاڑ کسی بھی وقت پھٹ کر دور دور تک لاوا اگل سکتا ہے۔ ادارے نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس سے دور رہیں اور آس پاس کے قصبوں کو خالی کروا لیا ہے۔ تاہم فلپائنی جوڑے نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شادی کی تصویریں اسی آتش فشاں کے سامنے کھنچوائیں۔


امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے فوٹوگرافررینڈولف ایون نے کہا کہ ’ہم فوٹو کھینچتے وقت خاصے فکرمند تھے اور باربار سوشل میڈیا سے اپ ڈیٹس دیکھ رہے تھے کہ کہیں یہ آتش فشاں پھٹ نہ جائے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close