شاہی قلعہ مغلیہ فن تعمیر کا ایک شاندار شاہکار

لاہور کا تاریخی شاہی قلعہ مغلیہ فنِ تعمیرکا ایک شاندار نمونہ ہے. یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ قلعہ لاہور کی بنیاد کس نے اور کب رکھی تھی، یہ معلومات تاریخ کے اوراق میں دفن ہوچکی ہیں، شاید ہمیشہ کے لیے، تاہم محکمہء آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والی نشانیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ1025ء سے بھی بہت پہلے تعمیر کیا گیا تھا منگولوں سے لے کر انگریز دور حکومت تک یہ قلعہ کئی مرتبہ برباد ہوا اور کئی بار آباد ..موجودہ شاہی قلعے کی بنیادتاریخ دان مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر سے ملاتے ہیں جو اس نے سولہویں صدی کے وسط میں رکھی تھی۔جس کے بعد آنے والے مغل بادشاہ اضافہ کرتے رہے ہیں۔مغلوں کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کے بعد آنے والے انگریز وں نے بھی چند تبدیلیاں کیں۔موجودہ حالات میں کئی ایکڑ پر محیط اس تاریخی ورثہ میں کم و بیش بیس سے زائد یاد گاریں موجود ہیں جو لگ بگ پانچ سو برس میں اس کو مسکن بنانے والے بادشاہوں اور ان کے ادوار کی نشانیاں ہیں تاحال شاہی قلعےمیں زیادہ تر یاد گاریں تین مغل بادشاہوں یعنی جہانگیر ، شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر سے منسوب ہیں لیکن اب لاہور کے شاہی قلعہ سے پانچ سو سال بعد ایک ایسی چیز دریافت ہوئی ہے۔جس کو دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی ہے اور اس چیز نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر لی ہے۔ شاہی قلعہ کی بوسیدہ کتاب کا ایک ایسا ورق دریافت ہوا جو منو ں مٹی تلے دفن تھا ۔اور یہ ہے اکبری دور کا شاہی حمام .قلعے کے دو مرکزی دروازوں کے عین بیچ سبزہ زاروں کے درمیان کھڑی دیوان عام کی شاندار عمارت کے بائیں پہلوسے گزرتے ہوئے آپ حمام تک پہنچتے ہیں۔اس جانب زیادہ لوگوں کا گزر نہیں ہوتاہے۔ یہ جہانگیری اور شاہجہاں کے چوحوشوں کاعقب ہےماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حمام اکبری دور کا ہےجس جگہ سے یہ دریافت ہوا وہ اکبری محل کا علاقہ ہے اگر ایسا ہی ہے تو اکبری دروازے کے بعد یہ حمام جسے حمام اکبر کہا جاتا ہےاکبر کے دور کی پہلی یادگار ہوسکتا ہے ۔اس کی کئی نشانیاں حمام کے طرز تعمیر،اس کی عمراور اس کی تعمیر کی جگہ سے عیاں ہے۔ یہ حمام زیر زمین تھا تو کیا زیر زمین یہ واحد عمارت ہے؟حمام کے آخری حصہ مین ایک زیر زمین سرنگ بھی ملی ہے۔اور سرنگ کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ سرنگ جہانگیری حصہ کی ایک عمارت کے عقب سےزیر زمین داخل ہوتی نظر آتی ہے۔مگر یہ کہاں جاتی ہے تاحال معلوم نہیں۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جس جانب یہ سرنگ جا رہی ہے۔اس طرف کوئی تہہ خانہ وغیرہ موجود ہو۔اگر ایسا تھا تو اس تہہ خانہ سےکیا تاریخی چیزیں جڑی ہیں۔اور اس تک رسائی کہاں سے ہوگی۔ایسی معلومات کے توسط سے حمام کی تاریخ جاننے میں مدد ملے گی۔ اثار قدیمہ کے ملازمین کے لئے بنائی گئی حالیہ کالونی کی مسجد کے سامنےچند قدم کے فاصلے پر 3 سے 4 سیڑھیاں اتر کرآپ حمام کے مرکزی حال میں داخل ہوتے ہیں ۔سامنے مرکزی تالاب ہے۔جس کے تین احاطے بنے ہوئے ہیں ۔جو ایک دوسرے سے منسلک ہیں حمام کی دیواروں کے ساتھ بھاپ اور دھواں نکلنے کے لیے چمنیا ں بنی ہوئی ہیں۔مرکزی ہال میں دو جانب بندھک موجود ہیں۔جبکہ فرش پر پانی کے نقاص کی نالیاں موجود ہیں۔فرش کھودنے پرپانی کی نالیوں کا ایک جال بھی نظر آتا ہے۔جن کے بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نالیاں حمام میں پانی لانے یا پانی نکالنے کے کام آتی ہیں۔حمام میں گرم اور ٹھنڈے پانی کے حوض بھی موجود ہیں۔یہ مغلوں کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔جس میں جیومینٹری کے علم کابھی بہت عمل دخل ہے۔یہ حمام حادثاتی طور پر دریافت ہو ا ہے۔جس جگہ اس کا ڈھانچہ پہلی بار دیکھاگیا ۔وہاںمٹی اور کباڑ کا ڈھیر تھا۔ساتھ ہی چند فٹ کے فاصلے پر محکمہ آثار قدیمہ نے دو گیراج بنا رکھے تھے ۔وہ اب بھی وہاں پر موجود ہیں۔دیوان عام کی طرف سے قلعہ کے عقب کی طرف جائیں توکئی میٹر بلند ایک دیوار ہے جس کا ایک حصہ گزشتہ برس بارش کے باعث گرگیا تھا۔اس دیوار کے گرنے سے جو زمین کھسکی تھی اس نے چند خدوخال واضح کیےاس میں حمام کا ڈھانچہ بھی شامل تھا۔تاہم معلوم نہیں ہوسکا کہ حمام کا داخلی راستہ کہاں سے تھا؟اور اس میں پانی کہاں سے داخل ہوتا تھا اور کہاں سے نکلتا تھا؟ان تمام سوالات کی کھوج ہونا ابھی باقی ہے شاہی قلعہ سےجب یہ حمام دریافت ہوا تو لوگ حیران رہ گئے اتنے عرصے تک یہ کیسے چھپا رہا ۔ ایک طویل عرصے شاہی قلعہ کی دیکھ بھال میں غفلت سے کام لیا گیا لیکن سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے دور میں شاہی قلعہ کے کچھ حصہ کی تعمیر دوبارہ کی گئی اور اس حصہ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔شاہی قلعہ کے ساتھ اور بھی کافی تاریخی چیزیں موجود ہیں جنہیں دیکھ ہمیں تاریخ میں کچھ لمحوں کے لئے جھانکنے کا موقع مل جاتا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close