ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا

ملک بھر میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے، جس کے باعث آٹے کی قیمت عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے، ریٹیلرز ایسو سی ایشن کے مطابق گندم سپلائی کم ہونے کے سبب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آٹے کی قیمت میں 5 روپے کلو اضافہ ہوا ہے۔
آٹاچکی مالکان ايسوسی ايشن نے نئی قيمت آج بروز جمعہ 17 جنوری سے نافذ کردی ہے۔ لاہور میں فی کلو قيمت 64 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کردی گئی ہے۔ آٹے کی قيمت رواں ماہ ميں دوسری مرتبہ بڑھائی گئی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں 17دنوں ميں چکی کا آٹا 10 روپے فی کلو مہنگا ہو چکا ہے۔ چيئرمين چکی آٹا ايسوسی ايشن لیاقت علی نے بتایا تھا کہ بجلی اور گندم کی قيمت ميں اضافے کی وجہ سے قيمت بڑھانا پڑتی ہے۔ چيئرمين لیاقت علی نے مزید بتایا تھا کہ موجودہ صورت حال میں 60 روپے فی کلو آٹا بيچنا ممکن نہیں تھا۔
کراچی میں گندم کی بوری 500 روپے مہنگی ہونے کے بعد 100 کلو گندم کی بوری 5200 روپے کی ہوگئی ہے۔ شہر کے بعض علاقوں میں 10 کلو آٹا 660 سے 700 روپے تک فروخت کیا جارہا ہے جب کہ بحران سے قبل 10 کلو آٹے کی قیمت 450 روپے تھی یعنی 5 مہینوں میں 10 کلو آٹا 250 روپے تک مہنگا ہوا ہے۔ ڈیلرز اوپن مارکیٹ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں فی کلو گندم کی قیمت 47 سےبڑھ کر 52 روپے ہو گئی ۔
حیدرآباد میں آٹے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور چند روز میں 10 کلو آٹے کی بوری 640 روپے کی ہوگئی ہے۔ ریٹیلرز ایسو سی ایشن کے مطابق سندھ حکومت کی پاسکو سے خریدی گندم آمد پر آٹے کی قیمت میں کمی ہوجائے گی۔
گوجرانوالہ میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 805 سے بڑھ کر 1050 روپے تک پہنچ گئی جب کہ دکانوں پر کھلا آٹا 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ فیصل آباد میں سرکاری کوٹہ پر آٹا چکیوں کو گندم کی فراہمی بند کردی گئی ہے جس کے باعث سرکاری گندم نہ ملنے سے چکیوں پر آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کا کہنا ہےکہ آٹا چکی مالکان سرکاری گندم لے کر بھی آٹا مہنگا فروخت کرتے تھے، چکی مالکان کےخلاف شکایات پرگندم کا کوٹہ بند کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close