آٹے کے بحران کے خاتمے کےلیے گندم کی درآمد کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خاننے ملک میں جاری آٹے کے بحران کے خاتمے کےلیے گندم کی درآمد پر عائد 60 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی چھوٹ دیتے ہوئے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اصولی منظوری دیدی۔
یہ منظوری وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کی سفارشات پر دی گئی ہے۔
گندم درآمد کرنے کی باضابطہ منظوری آئندہ ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں دی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ گندم درآمد پر عائد 5 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کو برقرار رکھا جائے یا اسے بھی ختم کردیا جائے۔
وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی درخواست پر کے پی کے کو پاسکو کے ذخائر میں سے مزید 1 لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری بھی دیدی ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا کو پاسکو سے ملنے والی سبسڈائزڈ گندم کی مجموعی مقدار 5 لاکھ 50 ہزار ٹن ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کےلیے مختص کردہ دو لاکھ ٹن گندم کی مقدار کم کرکے ایک لاکھ ٹن کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے صوبے میں آٹا بحران کے خاتمے اور مستقبل میں اس سے بچنے کےلیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے جدید کمپیوٹر سافٹ ویئر تیار کروا لیا ہے، یہ سافٹ ویئر 24 جنوری کو محکمہ خوراک کے حوالے کردیا جائیگا۔
پنجاب کی ہر فلور مل کو سافٹ ویئر ڈیش بورڈ میں شامل کرکے مخصوص لاگ ان اور پاس ورڈ فراہم کیا جائے گا اور اسے پابند کیا جائے گا کہ ہر مل روزانہ کی بنیاد پر اس سافٹ ویئر میں یہ تفصیلات فراہم کرے گی کہ اس نے آج محکمہ خوراک سے کتنی گندم خریدی ہے اور اس کے پاس پرائیویٹ گندم کے اسٹاکس کتنے ہیں اور اس نے آج کتنا آٹا تیار کیا اور کس پیکنگ اور مقدار میں کس ڈیلر اور دکاندار کو ارسال کیا، سافٹ ویئر میں فلور مل کا گیٹ پاس بھی اسکین کرکے اپ لوڈ کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close