بیرونی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافہ

وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اختتام تک ملک کے بیرونی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ پبلک ڈیٹ مینجمنٹ رسک رپورٹ کے مطابق زرمبادلے کے کل ذخائر کے 159 فیصد تک پہنچ گئے تھے۔ تاہم اندرونی قرضوں کے اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی اور اس کی وجہ مختصر مدت کے قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا تھا۔ رپورٹ میں جون 2019 تک قرضوں کے اعداد و شمار دیئے گئے ہیں جس کے مطابق قرضوں کا حجم 32.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا 84.8 فیصد ہے۔
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت خزانہ وسط مدتی ڈیٹ مینجمنٹ اسٹریٹجی 19-2016 پر پوری طرح عملدرآمد میں ناکام رہی ہے جس کا ہدف نئے قرضے کے حصول کی لاگت اور رسک کے درمیان توازن قائم کرنا تھا۔ رپورٹ میں تشویشناک امر یہ ہے کہ 19-2018 میں میچیور ہونے والے پاکستان کے قلیل اور طویل مدتی قرضے بڑھ کر جون 2019 میں زرمبادلہ کے ذخائر کے 158.7 فیصد تک پہنچ گئے، پی ٹی آئی کے حکومت سنبھالنے کے وقت یہ شرح صرف 80.6 فیصد تھی۔
جون 2019 میں زرمبادلہ کے ذخائر 7.2 ارب ڈالر تھے جو کہ آئی ایم ایف، اے ڈی بی اور حکومتی سیکورٹیز میں ہاٹ فارن منی کی غیرملکی سرمایہ کاری کے نتیجے میں 11.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں نے ملکی قرضے میں 2.2 ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔ مجموعی قرضے میں فارن کرنسی قرضہ 32.2 فیصد سے بڑھ کر34.8 فیصد تک پہنچ گیا جو کہ ڈیٹ اسٹریٹجی میں آخری حد ہی جب کہ 20 فیصد کی شرح محفوظ تصور کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک سے قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ری فنانسنگ اشاریوں میں بہتری آئی جب کہ بیرونی قرضوں سے متعلق ری فنانسنگ کے رسک میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال جون تک اندرونی قرضوں کی میچورٹی کی اوسط مدت ساڑھے تین سال سے بڑھ کر پانچ سال دو ماہ ہوگئی جب کہ بیرونی قرضوں کی میچورٹی کی اوسط مدت ساڑھے سات سال سے کم ہو کر سات سال رہ گئی۔ داخلی قرضوں کے حوالے سے ڈیٹ میچورنگ انڈیکیٹر میں بہتری آئی۔
ایک سال میں اندرونی قرضے کی میچورنگ کی شرح 66.3سے کم ہو کر 36.8فیصد ہوگئی تاہم بیرونی قرضوں کے حوالے سے یہ شرح 12.4 فیصد سے بڑھ کر 17.2فیصد ہوگئی جس سے ری فنانسنگ کے رسک میں اضافہ ہوا۔ ایک اور اہم اشاریہ قرضے کی ری فکسنگ کےلیے اوسط مدت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ تین سال دو ماہ کی مدت پر برقرار رہا تاہم بیرونی قرضوں کےلیے یہ مدت ساڑھے چھ سال سے کم ہو کر چھ سال اور ایک ماہ رہ گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق فکسڈ ریٹ اندرونی قرضوں کی شرح میں اضافہ ہوا جب کہ بیرونی قرضوں کی شرح میں کمی آئی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران وزارت خزانہ کے امکانی واجبات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جون2018میں یہ واجبات 1.236 ٹریلین روپے تھے جو جون 2019 تک 1.555 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے یعنی ایک سال میں 319 ارب روپے یا 25.8فیصد کا اضافہ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close