شوہرکاسابقہ بیوی کےخلاف مقدمےپرتلواربازی سےفیصلہ

امریکی ریاست کنساس کےایک شہری نےمقامی عدالت سےدرخواست کی ہےکہ اسے اپنی سابقہ بیوی کےخلاف تلواربازی کےذریعےمقدمےکا فیصلہ کرنےکی اجازت دی جائےتاکہ وہ(تلواربازی کے)میدان میں اپنی سابقہ بیوی اور/ یااس کے وکیل کی’’روحیں ان کےجسموں سےنکال باہر‘‘کرسکے۔
اس عجیب وغریب درخواست پرامریکا میں خاصی ہلچل پیدا ہوگئی ہےاورلوگ یہ سوال اٹھانےلگے ہیں کہ کیا کسی قانونی مقدمےکا فیصلہ اس وحشیانہ اندازسےبھی کیاجانا چاہیے؟ تفصیلات کےمطابق چالیس سالہ ڈیوڈ اوسٹروم امریکی ریاست کنساس کےشہرپاؤلا کےرہائشی ہیں جنہوں نےچندروزپہلے شیلبی کاؤنٹی کی آیووا ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپنی بیوی کےخلاف مقدمے میں درخواست دی ہےکہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ تلواربازی کےدوبدومقابلےمیں کرنا چاہتے ہیں جس میں وہ اپنی سابقہ بیوی اور/ یااس کےوکیل کاسامنا کریں گے۔
اگرچہ وہ اس مقابلےمیں ان دونوں یاان میں سے کسی ایک کی جان لینا چاہتے ہیں لیکن خود ان کی بھی جان جاسکتی ہے۔ تلواربازی کے دُوبدومقابلے (ڈویل) سے کسی مقدمے کا فیصلہ صدیوں پرانی روایت ہےجوآج کےزمانے میں متروک ہوچکی ہے۔ لیکن اپنی درخواست کےحق میں اوسٹروم کا کہنا ہےکہ امریکی قانون کے تحت تلواربازی کےذریعےکسی مقدمے کے فیصلےپرکوئی ممانعت نہیں،بلکہ2016 میں ایک امریکی جج نے بھی مقدمےکے دوران اپنےریمارکس میں یہی بات کہی تھی۔ لہذاانہیں اجازت دی جائےکہ وہ تلواربازی کےذریعےاپنی سابقہ بیوی کےساتھ تنازع حل کریں۔
اس کےجواب میں ان کی سابقہ بیوی کے وکیل نے فوری طوردرخواست دائرکی ہے جس میں مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ ڈیوڈ اوسٹروم نےکھلےالفاظ میں انہیں اور/ یااپنی سابقہ بیوی کوتلواربازی کےمیدان میں’’جسم سے روح نکال باہرکرنے‘‘ کی دھمکی دی ہے جومقدمے کےفیصلےکےنام پراوسٹروم کی جانب سےارادہٴ قتل کوظاہرکرتی ہے۔ اس لیے یہ درخواست منظورنہ کی جائے۔
ذرائع کے مطابق،عدالت نے ابھی تک اس درخواست پرکوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے لیکن امید ہے کہ جلد ہی اس بارے میں کوئی بات سامنے ضرورآجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close