اپنے بچوں کو اچھے طالب علم کیسے بنائیں؟

جنوری میں طلباء پر پڑھائی کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہےاور اساتذہ اور والدین کی جانب سے بار بار امتحان کی تیاری کے لیے نصیحتیں زور پکڑتی جاتی ہیں ۔ یہ خیال ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے ذہن و دل میں ہے کہ جس بچے کی رپورٹ کارڈ میں زیادہ نمبر موجود ہوں اس کی کلاس کے حوالے سے پوزیشن بہتر ہو تو وہ بچہ ایک اچھا طالب علم ہے اور اگر کسی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہ ہو پایا تو اس کو سارے جہاں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں- مگر اب جدید تحقیقات کے مطابق تین گھنٹے کا پرچہ کسی بھی بچے کی ذہانت کا فیصلہ نہیں کر سکتا ہے اور امتحانی نظام درحقیقت صرف اور صرف ان افراد کے لیے محدود ہوتا جا رہا ہے جو کہ سبق کو سمجھنے کے بجائے اچھا رٹ سکتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق صرف زیادہ نمبر لینے سے کوئی طالبعلم اچھا سٹوڈنٹ ثابت نہیں ہوتا اس کیلئے اس کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں کی بھی دیکھا جانا چاہیے۔-
1: نئی باتیں سیکھنے میں دلچسپی
طالب علم سے مراد صرف کتاب یا کورس کا سلیبس یاد کرنے والے سے نہیں ہوتی ہے- اگر بچہ نئی نئی چیزوں کو سیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہواور اس کے لیے کوشش کرتا ہو تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے اندر جاننے کا شوق ہےلیکن اگر اس کا یہ شوق کورس کے لیے نہیں ہے تو قصور بچے کا نہیں ہے بلکہ قصور ہمارا ہے کہ ہم اس کے لیے اس کا کورس دلچسپ کیوں نہیں بنا سکے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں کورس بچے کو اس طرح سے سکھانا چاہیے کہ اس کے اندر اس حوالے سے دلچسپی پیدا ہو سکے-
2: اسکول جانا پسند کرتا ہے
بچے کی زندگی میں اس کی درس گاہ خصوصی اہمیت کی حامل جگہ ہوتی ہے جہاں وہ اپنے دن کا ایک بڑا حصہ گزارتا ہے اور یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سے وہ نئی نئی چیزیں سیکھتا ہے- اگر وہ اسکول جانا پسند کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے اندر سیکھنے کا جذبہ موجود ہے اور وہ اس ماحول سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کرے گا لیکن اگر اس کا رجحان اسکول کی جانب نہیں ہے تو بچے کو زبردستی اسکول بھیجنے کے بجائے ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے جو اس کو اسکول سے دور کر رہی ہیں-
3: حساب کے مضمون میں دلچسپی
بچے کے نصاب میں شامل تمام مضامین کی نسبت حساب کا مضمون وہ واحد مضمون ہے جس میں رٹنے کا عمل کم ہوتا ہے بلکہ اس میں براہ راست ذہن کا استعمال ہوتا ہے- اس لیے بچے کو جانچنے کا یہ ایک آسان طریقہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ حساب میں کیسا ہے اگر وہ حساب کے مضمون میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے اور اس کے سوالات کو حل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ذہنی اعتبار سے آپ کا بچہ ایک ذہین بچہ ہے-
4: استادوں کے ساتھ تعلق
جس طرح دن بھر میں بچہ مختلف مضامین پڑھتا ہے اور ان مضامین کو پڑھانے کے لیے اسکول میں مختلف اساتذہ ہوتے ہیں- اگر بچہ اپنے اساتذہ کے ساتھ ایک اچھا تعلق رکھتا ہو اور ان کی کہی ہوئی باتیں یاد رکھتا ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی رہنمائی کرنے والے افراد اس کی زندگی کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں- ایسی صورتحال میں بچےکا تعلق اس کے اساتذہ سے مزيد مضبوط کرنا چاہيے اور بچے کو بھی اساتذہ کا احترام کرنا سکھانا چاہیے تاکہ وہ ان سے سیکھنے کا عمل جاری رکھ سکے-
5: کتابوں سے پیار
اگرچہ آج کے دور میں بچے موبائل فون اور کمپیوٹر کی وجہ سے کتابوں سے دور ہو گئے ہیں مگر اس کے باوجود کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے- ایک اچھے طالب علم کا تصور کتابوں کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ بچہ کتابوں سے جڑا رہے ضروری نہیں ہے کہ یہ محبت صرف کورس کی کتابوں تک محدود ہو ۔ ایک کہانی کی کتاب یا تصویری کتاب بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی کہ کورس کی کتاب کی اہمیت ہوتی ہے کیوںکہ کتاب کسی بھی صورت میں ہو علم کا وسیلہ ہے اس لیے اگر آپ کے بچے میں کتاب سے محبت ہے تو اس کی کلاس میں پوزيشن کچھ بھی ہو وہ ایک اچھا طالب علم ہے –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close