تحریک انصاف کا ناراض گروپ اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں میں ہے

تحریک انصاف کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 ناراض اراکین صوبائی اسمبلی کے گروپ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے مسلم لیگ نون اور قاف لیگ کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ سے بھی رابطے ہیں۔ ممکنہ طور پر مستقبل قریب میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو یہ ناراض گروپ بزدار کو گھر بھجوا کر چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کروانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت سے ناراض ہونے والی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ قاف، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ، بلوچستان عوامی پارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے بیس سے زائد اراکین نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف الگ دھڑا تشکیل دیا ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دھڑے میں شامل 16 اراکین اسمبلی نے ایک ملاقات کے دوران قرآن پاک پر حلف دیا ہے کہ اب یہ ارکان تمام سیاسی فیصلے اجتماعی طور پر کریں گے اور ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے ارکان کی تعداد دو درجن تک پہنچ گئی ہے اور مزید کئی ناراض اراکین بھی انہیں جوائن کرنا چاہتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اس گروپ میں جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وہ اراکین پنجاب اسمبلی شامل ہیں جن میں سے اکثر آزاد حیثیت میں اپنے اپنے حلقوں سے منتخب ہوئے اور بعد ازاں تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔ کئی ایم پی ایز ایسے ہیں جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ہی منتخب ہوئے تھے مگر یہ الیکٹ ایبلز ہیں یعنی یہ اپنے زور بازو پر جیتے ہیں اور ان کا اپنے علاقے میں انتہائی اثر و رسوخ ہے۔
پی ٹی آئی کے اس ناراض گروپ کی اب تک کئی میٹنگز ہو چکی ہیں جن کی تصاویر بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ ناراض اراکین میں غضنفر عباس چھینہ، سردار شہاب الدین سیہڑ، تیمور لالی، اعجاز خان، مامون تارڑ، فیصل فاروق چیمہ، کرنل ریٹائرڈ غضنفر عباس شاہ، خواجہ محمد داؤد سلیمانی، سردار محی الدین کھوسہ اور عامر شاہانی وغیرہ نمایاں ہیں۔
وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف الگ دھڑا تشکیل دینے والے اس گروپ کے اراکین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی عثمان بزدار انہیں اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام کروائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اراکین میں کوئی ایک بھی مشیر اور معاون خصوصی نہیں ہے۔ ناراض اراکین کا موقف ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے انہیں نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے ان کا سیاسی مستقبل خدشات کا شکار ہو چکا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کے خلاف بننے والا یہ دھڑا دراصل اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد پر ہی تشکیل دیا گیا ہے اور اس دھڑے کے مسلم لیگ قاف اور نون لیگ سے بھی رابطے ہیں۔ ممکنہ طور پر آئندہ چند ہفتوں میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی جس کے نتیجے میں یہ ناراض دھڑا عثمان بزدار کی چھٹی کروا سکتا ہے۔
طے شدہ معاملات کے مطابق اس دھڑے میں شامل اراکین چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب منتخب کروانے میں اہم کردار ادا کریں گے، تاہم ابھی تک تک اس حوالے سے بات چیت حتمی مراحل میں داخل نہیں ہو سکی۔ بنیادی طور پر بزدار حکومت الٹانے کے لیے قاف لیگ کو نون لیگ کی مدد درکار ہوگی۔ بزدار حکومت اس وقت صرف بارہ ووٹوں کی اکثریت پر قائم ہے جبکہ ان میں سے دس ووٹ قاف لیگ کے ہیں۔ اس حوالے سے جب رانا ثناءاللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ اگر قاف لیگ پی ٹی آئی سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کرلے تو نون لیگ بھی قاف لیگ کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ناراض اراکین کو سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی بھرپور تائید حاصل ہے کیونکہ اس ناراض دھڑے کے اہم رکن بھکر سے منتخب غضنفر عباس چھینہ گزشتہ برس چوہدری پرویز الہی کی مدد سے ہی اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل لے کر آئے تھے اور وزیراعظم عمران خان کی مزاحمت کے باوجود اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے تھے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لانے کے لیے یہ ناراض گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے اراکین کی جانب سے یہی دعوی کیا جاتا ہے کہ انہیں وزیر اعلیٰ اور پارٹی کی جانب سے نظر انداز کیا گیاتاہم یہ کسی صورت بھی عثمان بزدار کی حکومت نہیں گرنے دیں گے۔ تاہم یہ ایک کھلا راز ہے کہ ناراض گروپ کا اصل مقصد عثمان بزدار کو گھر بھجوانا اور چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی کی کرسی پر بٹھانا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس معاملے کا ڈراپ سین ہو جائے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close