ملک میں آٹے کا بحران جہانگیر ترین کے فیصلوں سے پیدا ہوا

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں جاری آٹے کے سنگین بحران کے ذمہ دار دراصل کپتان کے قریبی ساتھی اور حکومت کے غیر منتخب مشیرخاص جہانگیر ترین ہیں جو کہ خوراک کے تحفظ اور زراعت کے حوالے سے ہونے والے تمام اہم پالیسی فیصلے لیتے ہیں۔
وزارت زراعت وخوراک کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس برس پاکستان کی گندم کی مجموعی طلب 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن تھی جبکہ پاکستان میں رواں برس 2 کروڑ 50 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار ہوئی۔ یعنی پاکستان کو اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس برس دس لاکھ ٹن گندم کی کمی کا سامنا تھا لیکن اس حقیقت کا علم ہونے کے باوجود جہانگیر ترین نے 5 لاکھ ٹن گندم افغانستان کو ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں گندم اور آٹے کا بحران پیدا ہوا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص نے یہ بحران پیدا کیا ہے اب اسی کے ذمے اس بحران کو حل کرنے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے اور اب جہانگیر ترین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان سے گندم امپورٹ کی جائے تاکہ بحران سے نمٹا جا سکے۔ یعنی جو گندم پاکستان نے افغانستان کو بیچی تھی اب وہی گندم افغانستان سے دگنے داموں واپس خریدی جائے گی۔ اسے کہتے ہیں یو ٹرن لینے والوں کی حکومت۔
تاہم وزارت خوراک و زراعت کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کو گندم بیچنے اور پھر واپس خریدنے کے فیصلے کے پیچھے کاروباری وجوہات ہیں جو جہانگیر ترین بہتر بتا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین پہلے رکن قومی اسمبلی تھے اور انہیں سپریم کورٹ نے صادق اور امین نہ ہونے پر کوئی بھی سرکاری عہدہ رکھنے کیلئے نا اہل قرار دیا تھا۔ تاہم کپتان کا نہایت قریبی ساتھی ہونے کی بنا پر وہ سیاست سے لیکر زراعت تک تمام اہم حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے جب کسی کا ذاتی جہاز استعمال کرنا ہو تو پھر اس کی ماننی تو پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ ترین نے ماضی میں کپتان کی پارٹی کو مالی طور پر سپورٹ کیا اور ریحام خان تو یہ بھی کہتی ہیں کہ کپتان کے کچن کا خرچہ بھی ترین ہی اٹھاتے ہیں۔
یہ بات بھی سب ہی جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین اسلام آباد میں وزارت فوڈ سیکیورٹی اور پنجاب میں زراعت و محکمہ خوراک کو کنٹرول کرتے ہیں۔
اگرچہ وہ باضابطہ طور پر کسی بھی سیاسی جماعت میں کوئی سیاسی عہدہ یا وزارت نہیں رکھ سکتے لیکن کسی بھی عہدے کیلئے نا اہل قرار دئیے جانے کے باوجود انہوں نے اس وقت تاریخ رقم کی جب انہوں نے 2018ء میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی۔ حکومت کو اس پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اسوقت یہ اعلان کیا گیا کہ انہیں زراعت کے امور پر حکومت اور کابینہ ارکان کو بریفنگ دینے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ وہ زراعت کے امور کے حوالے سے کئی سرکاری اجلاسوں میں شرکت بھی کر چکے ہیں اور اب ان کے فیصلوں کے ثمرات سے اس وقت پاکستان کے عوام آٹے کے بحران کی صورت میں فیض یاب ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گندم افغانستان ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کرواتے وقت جہانگیر ترین کا یہ موقف تھا کہ افغانستان میں گندم کی بہت بڑی منڈی ہے جو نہ صرف غیر ملکی زر مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ اس سے پاکستان کے کسانوں کو اچھی قیمت سے فائدہ پہنچے گا۔ تاہم یہ جانتے ہوئے کہ ملک میں گندم کا بحران پیدا ہو جائے گا انھوں نے گندم برآمد کرنے کی منظوری لے لی حالانکہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے جون 2019 میں حکومت سے رابطہ کرکے گندم کی برآمد پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم حکومت نے ترین کے مشورے پر ملک میں گندم کے موجود ذخائر کو وافر قرار دے کر یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔
بعد میں جولائی 2019ء میں حکومت نے بالآخر گندم اور آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ روٹی اور گندم سے بنی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ تھا لیکن اکتوبر 2019ء میں میڈیا میں خبر آئی کہ پاکستان نے دو ماہ بعد جزوی طور پر طورخم کے راستے افغانستان کو آٹے کی برآمد شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ جہانگیر ترین نے کروایا اور اس میں ان کا ذاتی مفاد شامل تھا۔ ان حقائق کا علم ہونے کے باوجود جہانگیر ترین کو ہی ملک میں جاری آٹے کا بحران ختم کرنے کی ذمہ داری دینا ایک سنگین مذاق سے کم نہیں جنہوں نے یہ بحران پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ گندم افغانستان سے واپس خرید سکیں اور وہ بھی ڈیوٹی فری۔
وزیراعظم عمران خان اکثر اپنی تقریروں میں فرماتے ہیں کہ اس ملک کو طاقتور مافیا کھا رہے ہیں اور میں ان سے پاکستانیوں کی جان چھڑوانا چاہتا ہوں لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ طاقتور مافیا ان کی حکومت کا حصہ ہیں اور اگر وہ ان سے پاکستانیوں کی واقعی جان چھڑوانا چاہتے ہیں تو پہلے انہیں خود اس مافیا سے جان چھڑوانا ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close