آٹے کا بحران، عوام بلیک میں روٹیاں خریدنے پر مجبور

حکومت کی احمقانہ فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث پشاور شہر میں روٹیاں بھی بلیک میں ملنے لگی ہیں، جس کی بڑی وجہ صوبے اور ملک بھر میں آٹے کی قلت اور نان بائی ایسوسی ایشن کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال ہے۔
روائتی طور پر خیبرپختونخوا میں گھروں میں روٹی ہمیشہ تندور سے ہی آتی ہے خصوصاً شہری علاقوں میں گھر میں آٹا رکھنے اور روٹی پکانے کا رواج انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آٹے کی قلت اور تندور بند ہونے سے سب سے زیادہ متاثر خیبرپختونخوا کے عوام ہوئے ہیں۔
پشاور کی ایک رہائشی خاتون نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اس ہڑتال سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ صبح بچوں کو ناشتہ کرکے اسکول جانا تھا لیکن جب ہم تندور پر روٹی لینے گئے تو معلوم ہوا کہ ہڑتال ہے، روٹی نہیں ملی تو بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول گئے۔ ڈبل روٹی بھی مشکل سے ہی ملی۔ پھر جب وہ دوپہر کو اسکول سے واپس آئے تو تب بھی تندور بند تھے۔ ہم نے پھر چاول بنائے اور گزارا کیا۔ ان کے مطابق اگر وہ گھر میں روٹی بنانا بھی چاہیں تو نہیں بناسکتیں کیوں کہ گھروں میں گیس یا تو آتی نہیں یا اتنی کم آتی ہے کہ اس پر صرف چائے ہی بناسکتے ہیں۔ اس لیے روٹی اور نان کےلیے تندور کے بغیر گزارا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’حکومت سب سے پہلے آٹے کی قیمت کم کرے کیوںکہ نان بائیوں کی ہڑتال بھی اسی لیے ہے کہ آٹے کی قیمت تین گنا بڑھ گئی ہے۔
پشاور کی ایک اور رہائشی، اسکول ٹیچر کا کہنا ہے کہ صبح اسکول جانے سے پہلے وہ نان منگوا کر اپنا اور بچوں کا ناشتہ بناتی ہیں۔’نان بائیوں کی ہڑتال کا کل رات سے علم تھا تو رات کے کھانے کے ساتھ ہی صبح کے ناشتے کے لیے روٹیاں منگوا لی تھیں۔ ‘ان کا کہنا تھا کہ تین ماہ پہلے بھی یہی مسئلہ ہوا جس کے بعد روٹی کی قیمت پندرہ روپے کر دی گئی تھی اور اب پھر یہی معاملہ ہوا ہے۔ اگر یہ ہڑتال زیادہ دن چلی تو میرے جیسی ورکنگ لیڈیز کےلیے تو بہت مسئلہ ہو جائے گا کیوںکہ ہم نے تو گھر میں کبھی روٹی بنائی ہی نہیں لیکن اگر مسئلہ بڑھا تو پھر مجبوری ہے سلنڈر پر ہی روٹی بنانی پڑے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close