مشرف کیس پر تنقید نوجوان صحافی کا جرم بن گئی

وزارتِ داخلہ کے ماتحت ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی ایف آئی اے نے مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر مشرف مخالف آوازوں کو دبانے کے لئے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے لاہور کے مقامی اخبار سے منسلک ایک نوجوان صحافی اظہار الحق واحد کو صرف اس جرم پر حراست میں لے لیا کہ اس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں جنرل مشرف کو آئین شکن قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ بھی ماضی میں جنرل مشرف کو آئین شکن قرار دے چکا ہے۔
صحافتی حلقوں کی جانب سے اظہار الحق واحد کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے بھی ایف آئی اے کی حرکت کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آئین پاکستان میڈیا کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے لہذا اظہار الحق کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اظہار الحق کو صرف اس وجہ سے گرفتار کیا گیا تاکہ مین سٹریم میڈیا کو دبانے کے بعد سوشل میڈیا پر متحرک جمہوری آوازوں کو بھی ڈرایا جا سکے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی ہدایت پر ایف آئی اے سوشل میڈیا پر مشرف مخالف آوازوں کے خلاف متحرک ہوچکا ہے۔ اعجاز شاہ چونکہ مشرف دور میں انٹیلیجنس بیورو پنجاب کے سربراہ رہ چکے ہیں اس لئے وہ اپنے سابقہ باس کے بارے میں مین سٹریم میڈیا کو خاموش کروانے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ایسی تمام آوازوں کا گلہ گھونٹنے کے درپے ہیں۔
ایف آئی اے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر متحرک صحافیوں کو تفتیش کے نام پر ہراساں کر رہا ہے اور ان پر مقدمات قائم کرنا اسی کوشش کا حصہ ہے۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک آئین شکن کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری تنقید کو روکا جائے حالانکہ اسے آئین شکن سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے۔
دوسری جانب اکیس جنوری کو مشرف پر تنقید کے الزام میں گرفتار صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے سے 22 جنوری کو تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے صحافی اظہار الحق کی درخواست پر سماعت کی جس میں صحافی کی جانب سے میاں دائود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے بے بنیاد الزام لگا کر صحافی اظہار الحق کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے۔ ایف آئی اے نے جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، وہ الزامات مقدمے کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ میاں دائود ایڈووکیٹ نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور مشرف پر تنقید جرم ہے تو پهر آدها پاکستان گرفتار کیا جانا چاہیے۔ بائیس جنوری کو ہونے والی سماعت میں ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں صحافی اظہار الحق پر ملک دشمنی کا روائتی الزام لگا کر انہیں عقوبت خانے میں نہ پھینک دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close