نئے چیف الیکشن کمشنر کیلئے سکندر سلطان راجہ کے نام پر اتفاق

الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کےلیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر جبکہ نثار درانی اور شاہ محمد جتوئی کو الیکشن کمیشن ارکان بنانے پر اتفاق کرلیا گیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان ای سی پی کے سربراہ اور اراکین کے تقرر کے معاملے پر طویل ترین ڈیڈلاک اور مختلف مشاورتی اجلاسوں کے بعد بالآخر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کےلیے سکندر سلطان راجا کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے.
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کے ناموں پر بحث کی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی نے سکندر سلطان کے نام کی منظوری دے دی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ سکند سلطان نئے چیف الیکشن کمشنر ہوں گے۔ نثار درانی الیکشن کمیشن سندھ سے جبکہ شاہ محمود جتوئی الیکشن کمیشن بلوچستان سے ممبر ہوں گے۔
اس سلسلے میں قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن شیریں مزاری نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری کمیٹی کا تیرہواں اجلاس تھا اورآج ہم نے اتفاق رائے سے تینوں خالی نشستوں پر تعیناتی کےلیے ناموں پر اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں نام اتفاق رائے سے طے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کردیا جائے گا۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ پارلیمان نے فیصلہ کیا اور ہم نے کسی اور ادارے کو ذمہ داری نہیں سونپی کیوںکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کے فیصلے پارلیمان کے اندر ہی ہونے چاہیے۔
خیال رہے کہ ان ناموں پر اتفاق رائے اس ترمیمی فہرست کے ایک روز بعد سامنے آیا جو اپوزیشن میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے حکومت کو بھیجی تھی۔
قائد حزب اختلاف کے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ‘آئین کے آرٹیکل 213 (2-اے) کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے 25 ستمبر 2019 کو میں نے جس عمل کا آغاز کیا تھا بدقسمتی سے وہ غیر ضروری، غیرمعمولی تاخیر کا شکار ہے اور ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا، اگرچہ آپ کا تجویز کردہ نظرثانی شدہ پینل زیر غور ہے، اسی دوران میری آپ سے درخواست ہوگی کہ نامزدگیوں کی اس فہرست پر غور کریں جن میں مشاورت کے عمل کے آغاز کے بعد اصل نامزدگیوں کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے تبدیلی کی گئی’۔ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ ای سی پی اراکین کے تقرر سے متعلق اپنے سابق خطوط میں تذکرہ کیے گئے سپریم کورٹ کے پابند فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھیں۔
دوسری جانب اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے 3 نام تجویز کیے تھے، جس میں جمیل احمد، فضل عباس مکین اور سکندر سلطان راجا کے نام تھے اور یہ تینوں ریٹائرڈ بیوروکریٹس تھے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری 2019 میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہونا تھا لیکن اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث یہ نہ ہوسکا، دونوں ارکان کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا جس پر وفاقی حکومت نے یک طرفہ طور پر اگست میں سندھ سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کا تقرر کیا تھا لیکن اپوزیشن نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے بھی نئے ممبران کی تقرری کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نئے ممبران سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔ اسی طرح چیف الیکشن کمشنر کی مدت 5 دسمبر 2019 کو ختم ہوگئی تھی۔ جس کے بعد جسٹس (ر) الطاف ابراہیم نے قائم مقام الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تاہم اس عہدے کے لیے حتمی نام پر اتفاق کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں رابطے جاری تھے، جس کے بعد آج اتفاق رائے سے ناموں کا اعلان کیا گیا۔
خیال رہے کہ سکندر سلطان راجا کچھ ماہ قبل ہی سیکریٹری ریلوے کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے جبکہ وہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پیٹرولیم سیکریٹری اور چیف سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ڈائریکٹر جنرل (پاسپورٹس) بھی رہے اس وقت چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے صوبائی سیکریٹری آف کمیونیکیشن اینڈ ورکس، سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ مختصر مدت کے لیے پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری تعینات ہونے سے قبل بلدیاتی حکومت کے سیکریٹری بھی رہے۔
سکندر سلطان راجا کے والد آرمی افسر تھے جبکہ ان کی اہلیہ رباب سکندر پاکستان کسٹمز میں 21 ویں گریڈ کی افسر ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close