ملک میں گندم کا بحران حکومتی کوتاہی اور بدانتظامی ہے

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ملک میں آٹے کے بحران کو حکومتی کوتاہی اور بدانتظامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سستی گندم برآمد کر کے اب مہنگی گندم خریدی جائے گی جس سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے کابینہ اجلاس میں گندم برآمد کرنے کی مخالفت کی تھی تاہم کہا گیا تھا کہ گندم ضرورت سے زائد ہے۔
ملک بھر میں آٹے کی قلت اور مہنگے آٹے کی فروخت کے ذمہ داران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’بد انتظامی ہے، گورننس کی کمزوری ہے۔ آٹا بہت پڑا ہوا ہے، گندم بھی بہت ہے۔ اب تین لاکھ ٹن ہم امپورٹ بھی کرنے جا رہے ہیں، مسئلہ جلد حل ہو جائے گا.
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گندم ایکسپورٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔’میں نے اکنامک کوارڈینیشن کمیٹی میں بھی اس پر ووٹ دیا، اکیلا ووٹ تھا اور کابینہ میں بھی میری اکیلی زبان تھی اس لئے میری آواز زیادہ آوازوں میں دب گئی۔ میں نے انہیں کہا مت بیچو۔ ہم نےسستی گندم ایکسپورٹ کی اور اب مہنگی ہم امپورٹ کریں گے، سو یہ کوئی اتنی خوش آئند بات نہیں ہے۔‘
جب وفاقی وزیر سے پوچھا گیا کہ ان کی مخالفت کے باوجود گندم ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے حکومت کے باقی ارکان کی کیا دلیل تھی تو انہوں نے کہا کہ ’ان کی دلیل تھی کہ ہمارے پاس بہت ہے، کافی ہے پھر ہم نے فوڈ والوں کو بھی دی، مرغی خانوں کو بھی دی۔ ان کا خیال تھا کہ ضرورت سے زائد ہے۔ اس کے بعد ہماری توقعات سے کم گندم کی پیداوارہوئی۔ ہمارے پاس کچھ ڈیٹا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ آج کے ماڈرن دور میں بھی ابھی تک رجسٹر پر اندراج کیا جاتا ہے اور پھر سندھ حکومت نے بھی کسانوں سے کم گندم خریدی۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے گندم نہ خریدنا بڑا سانحہ ہے۔ تاہم وہ بحران کے حل کے لیے اب بھی پرامید ہیں۔’یہ آٹھ دس دن میں ماحول خراب ہوا ہے لیکن یہ ٹھیک ہو جائے گا۔اس میں ہماری کوتاہی ہے، ہماری بد انتظامی ہے لیکن آٹے کی قلت نہیں ہے۔‘ان کے بقول وزیراعظم عمران خان بہت محنت کر رہے ہیں تاہم جہیز میں ملنے والا مالی بحران بہت خطرناک ہے۔ ’عمران خان تین سال میں بہتری لے آئیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان بحران کے حل کے لیے تین سال تک مزید وزیراعظم رہ سکیں گے یا اسی سال عام انتخابات ہو جائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کرانا اتنا آسان نہیں ہے اور نہ ہی ملک کے پاس اتنے پیسے ہیں۔’پاکستان میں لوگ باتیں کرتے رہتے ہیں۔ بھٹو نے ایک دن مجھ سے کہا تھا کہ الیکشن ملک کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں۔‘
سینئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ وہ اس سال الیکشن نہیں دیکھ رہے تاہم سیاسی ہلچل بڑھ سکتی ہے۔’جب تک لوگ سڑکوں پر نہ آئیں میں نہیں سمجھتا کہ اس حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔‘
انہوں نے اعتراف کیا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور مہنگی بجلی جیسے مسائل کا عوام کو سامنا ہے ’کیونکہ چھ ارب ڈالر ہم نے آئی ایم ایف سے لیے ہیں اور ان کے اشاروں پر بھی بہت سارے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ہم ابھی بھی معاشی بحران کا شکار ہیں۔ ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔‘
وفاقی وزیر ریلوے نے اپنے دور حکومت میں ہونے والے ریل حادثات پر کہا کہ حادثات نہیں ہونے چاہیئں تاہم پاکستان کا ریلوے ٹریک پرانا ہے جسے انگریزوں نے 1861 میں بنایا تھا اور اس پر روزانہ 134 مسافر ٹرینیں اور 15 مال بردار ٹرینیں چلتی ہیں، اس لیے کبھی نہ کبھی کوئی ٹرین پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ سال تبلیغی جماعت کے ساتھ ٹرین پر بڑا حادثہ پیش آیا تھا جس کی وجہ چولہا پھٹنا یا شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں نے وہاں اپنے پلگ لگا رکھے تھے۔ تاہم ان کے مطابق ریلوے کے مسائل کا اصل حل چین کے تعاون سے شروع ہونے والا میگا پراجیکٹ ایم ایل ون ہے جس کے تحت 1875 کلومیٹر کی نئی ریلوے لائن بچھائی جائے گی جو ملک بھر کے علاقوں کو ملائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئی لائن پر ٹرینیں 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے بجائے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی اور کراچی سے راولپنڈی کا سفر آٹھ گھنٹے کا رہ جائے گا۔ ان کے بقول یہ منصوبہ تقریبا پانچ سال میں مکمل ہو جائے گا۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور ریلوے سٹیشن کھولنے کی فی الحال تجویز زیر غور نہیں تاہم ننکانہ صاحب اور حسن ابدال کے سٹیشن اپ گریڈ کیے جا رہے ہیں اور یہ کام چار سے چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close